لندن میں چند روز
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ ہیں جو بین اقوامی اسٹیج پر بیٹھ کر ملت اسلامیہ کے موضوع پر مجاہدانہ تقریریں کرتے ہیں۔ کناڈا سے آئے ہوئے ایک مسلمان پروفیسر نے سوال کیا کہ آپ کے اس قسم کے بیرونی سفروں کو انڈینیا کی حکومت کس نظر سے دیکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں۔ اس لئے وہ اس میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ حسب ضرورت تعاون کرتے ہیں جیسا کہ میں مالدیپ کے سفر کے ذیل میں لکھ چکا ہوں)، وہ فوراً بولے: مگر اسلام تو سیاست سکھاتا ہے اور ہر مسلمان کو سیاسی ہونا چاہئے۔ اس کے بعد مزید گفتگو کے دوران انھوں نے مہاتما گاندھی کا ذکر کیا اور کہا کہ : He was an enemy of Islam میں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں۔ مہاتما گاندھی اسلام دشمن نہیں تھے۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس مسلم سیاست کے مخالف تھے جو تقسیم ملک کے نظریہ کے تحت ہندوستانی مسلمانوں نے چلائی تھی۔ آپ چاہیں تو انھیں تقسیم دشمن کہہ سکتے ہیں مگر اسلام دشمن کہنا سراسر غلط ہے۔ یہ سن کر وہ مسکراتے اور کہا کہ آپ ہم کو حکومت ہند کے آدمی معلوم ہوتے ہیں موجودہ مسلمانوں کی یہی منفی ذہنیت ہے جس نے ان سے حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کو چھین لیا ہے۔ اور جس قوم سے حقیقت پسندانہ طرزِ فکر چھین جائے اس سے گویا سب سے بڑی چیز چھن گئی۔ ایسی قوم کا انجام صرف یہ ہے کہ وہ اپنے مفروضہ تخیلات کی دنیا میں جیتی رہے۔ اس کو خدا کی حقیقی دنیا میں کبھی کوئی جگہ نہیں مل سکتی۔ ۲۰ اکتوبر کو طرابلس کے ایک اخبار کے نمائندہ نے صحافتی انٹرویو لیا۔ انھوں نے ہمارے اسلامی مرکز سے متعلق اور عالم اسلام سے متعلق بہت سے سوالات کئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ دور جدید کے مسلم مسائل کے بارے میں آپ کس طرح سوچتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل ان کی اسلام سے غفلت کا نتیجہ ہیں۔ جب تک یہ اصل وجہ دور نہ کی جائے کسی اور تدبیر سے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اسلامی مرکز کے بارہ میں میں نے بتایا کہ وہ ۱۹۷۰ء سے قائم ہے اور ماہنامہ الرسالہ اور کتابوں اور اجتماعات کے ذریعے پورے ملک میں خاموشی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اسلامی مرکز ایک خالص غیر سیاسی ادارہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں حقیقی اسلام کو زندہ کرنا ہے اور غیر مسلم اقوام کو سچے اسلام سے متعارف کرنا ہے۔ میں نے بتایا کہ اسلامی مرکز کا صدر دفتر دہلی میں ہے اور اس کا ایک تختی مرکز حیدر آباد میں قائم کیا گیا ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ دہلی کے مرکز کو اردو اور عربی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader