لندن میں چند روز
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
اور انگریزی اور ہندی میں اسلامی لٹریچر کی فراہمی کا مرکز بنا نہیں اور حیدر آباد کے تحتی مرکز کو ملک کی دوسری علاقائی زبانوں کا۔ طرابلس سے واپسی میں میں نے لیبین ایرلائنز کے ذریعہ سفر کیا۔ یہ جہاز پہلے دمشق میں اترا۔ اس کے بعد اس نے مجھ کو کویت پہنچایا۔ ظہر اور عصر کی نمازیں میں نے اسی جہاز پر ادا کیں۔ ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے جب میں نے اپنا سر سجدہ میں رکھا تو عجیب احساس ہوا۔ سطح زمین پر سجدہ کرنے کے بجائے یہ فضا میں سجدہ تھا۔ جہاز جب فضا میں اڑ رہا ہوتا ہے تو بیک وقت دو چیزوں کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ مادہ کو خدا نے کس طرح انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے کہ وہ اس کو لیتے ہوئے فضا میں اڑا چلا جا رہا ہے اسی کے ساتھ دوسرا احساس اپنی بے چاری کا رہتا ہے۔ دورانِ پرواز اگر جہاز میں کوئی خرابی ہو جائے تو اس کے بعد صرف موت ہوتی ہے جو مسافر کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ سجدہ میں یہ دونوں احساسات اس طرح سمٹ آئے کہ دیر تک سجدہ سے سر اٹھانے کا جی نہ چاہا۔ دل نے کہا: خدایا، کیسے عجیب میں تیرے کرشمے اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو ان کرشموں کو دیکھ کر بھی نہیں تڑپتے۔ جن کی آنکھیں بدستور خشک رہتی ہیں اور جن کی دنیا اس کے بعد بھی تیری گذر گاہ نہیں بنتی۔ کویت میں جہاز بدلنا تھا مگر یہاں تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے برٹش ایرویز کا اگلا جہاز چھوٹ گیا ۔ اس لئے کویت میں مجھے کو ۲۲ گھنٹہ رہنا پڑا۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۳ کو دو بارہ میں دہلی واپس آگیا۔ طرابلس سے کویت تک کا سفر میں نے لیبین ایرویز کے ذریعہ طے کیا۔ کویت سے دھلی کا سفر مجھے برٹش ایرویز کے ذریعہ طے کرنا تھا۔ مگر لیبین ایرویز کا جہاز لیٹ ہو گیا۔ ہم کویت اس حال میں پہنچے کہ جب لیبین ایرویز کا جہاز ہم کو لے کر کویت کے ہوائی اڈہ پر اترا تو برٹش ایرویز کا جہاز کویت کے ہوائی اڈہ سے پرواز کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ زندگی کا بڑا سفر بھی آدمی کو اسی طرح مرحلہ وار طے کرنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایک " جہاز " کے بعد دوسرا " جہاز " در کار ہوتا ہے جو آدمی کے سفر کو برابر جاری رکھے۔ جس آدمی کی نظر صرف سامنے کی سواری پر ہو، اگلی سواری سے وہ بے خبر ہو تو عین ممکن ہے کہ جب وہ ایک مرحلہ سے گذر کر دوسرے مرحلہ میں پہنچے تو وہاں صرف یہ خبر اس کو سننے کو ملے کہ اگلے جہاز کا وقت آچکا تھا اس لئے وہ تم کو لےے بغیر چلا گیا — پہلے زینہ پر قدم رکھتے ہوئے اگلے زینہ پر بھی نگاہ رکھئے، اسی وقت آپ سلامتی کے ساتھ چھت تک پہنچ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader