Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

آغاز کلام

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے انگریزی اور فرانسیسی ترجمے بڑی تعداد میں یہاں رکھتے تو کتنا فائدہ ہوتا۔ میں ابھی اپنی بات پوری بھی نہیں کر سکتا تھا کہ پیچھے سے ایک عرب نوجوان نے مجھے اپنی طرف کھینچا اور الگ سے جاکر کہا: ’’اے شیخ، آپ اس وقت لیبیا میں ہیں ۔ آپ ہندوستان میں نہیں ہے!‘‘ یہ صرف لیبیا کی بات نہیں۔ اکثر مسلم ملکوں کا یہی حال ہے۔ مسلمانوں کے اندر شکر کا جذبہ نہیں۔ اگر ان کے اندر شکر کا جذبہ ہوتا تو وہ جانتے کہ آج ہندوستان میں اس سے کہیں زیادہ کام کے مواقع ہیں جتنا کسی مسلم ملک میں پائے جاتے ہیں۔ لیبیا کا رقبہ ۶ لاکھ ۵ ہزار مربع میل سے زیادہ ہے۔ مگر اس وسیع رقبہ کے باوجود اس کی کل آبادی تقریباً ۲۰ لاکھ ہے، موجودہ صدی کے آغاز میں اٹلی کے لیڈروں میں یہ ذہن ابھرا کہ وہ اپنے اقتدار کو وسیع کریں اور شمالی افریقی ایمپائر بنائیں۔ چنانچہ ۱۹۱۱ میں انھوں نے سمندر پار کر کے لیبیا پر حملہ کیا اور اس پر اپنا قبضہ کر لیا۔ میں نے طرابلس میں وہ وسیع مکان دیکھا جس میں اٹلی کا گورنر رہتا تھا اور جواب میوزیم بنا دیا گیا ہے، لیبیا نے دسمبر ۱۹۵۱ میں بیرونی قبضہ سے آزادی حاصل کی۔ اس کے بعد ستمبر ۱۹۶۹ میں فوجی انقلاب ہوا اور سابق شاہ ادریس جلا وطن کر دیئے گئے ۔ مذکورہ میوزیم میں ’’ مجاہدین آزادی‘‘ کی یادگاریں رکھی ہوئی ہیں۔ ان کو دیکھتے ہوئے میری نظر ایک کتبہ پر پڑی۔ اس پر وہ نعرہ لکھا ہوا تھا جو اٹلی کی محکومی (۴۳- ۱۹۱۱) کے زمانہ میں مجاہدین آزادی نے اختیار کیا تھا وہ نعرہ یہ تھا: موتوا اليوم اعزاء قبل ان تموتوا خدا اذلاء (آج عزت کے ساتھ مر جاؤ قبل اس کے کہ کل تمہیں ذلت کے ساتھ مرنا پڑے) نو آبادیاتی دور میں تمام محکوم مسلم ممالک میں یہی بات کسی ایک یا دوسرے لفظ میں دہرائی گئی ۔ تاہم نو آبادیاتی محکومی ختم ہونے کے بعد بھی مسلمانوں کو با عزت زندگی حاصل نہ ہو سکی ۔ ان مجاہدین آزادی کی غلطی یہ تھی کہ وہ عزت اور ذلت کو صرف سیاسی اصطلاحوں میں سوچتے رہے۔ حالاں کہ اس دنیا میں عزت اس کو ملتی ہے جس کو فکری غلبہ حاصل ہو ۔ اور بے عزت وہ ہے جو فکری اعتبار سے مغلوب ہو جائے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لیے بے حساب کوششیں کیں۔ مگر فکری غلبہ حاصل کرنے کے لیے انھوں نے کچھ نہیں کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page