سفر مدینہ
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتے ہیں اور حل من مزید کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر حمد خدا وندی کی باتیں کی جائیں اگر جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا جائے۔ اگر رزق ربانی کے نغمے چھیڑے جائیں تو لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالبأً یہ ہے کہ پہلا اسلام ان کی پہچان والا اسلام ہے۔ جب کہ دوسرا اسلام ان کی پہچان والا اسلام نہیں۔ آج مسلمانوں نے اسلام کو اپنے لئے سرمایہ فخر بنا رکھا ہے۔ اس لئے پہلی قسم کی باتیں ان کو اسلام کا سائنسی قصیدہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان کو سن کر ان کی نفسیاتِ فخر کو تسکین ملتی ہے اور وہ خوش ہوجاتے ہیں مگر دوسری قسم کی باتیں ان کو اجنبی معلوم ہوتی ہیں کیوں کہ اسلام کے نام سے وہ اس قسم کی کسی چیز کو جانتے ہی نہیں، اسلام ان کے لئے قومی فخر کا عنوان ہے نہ کہ اصلاحِ ذات کا عنوان فخر والی بات کی جائے تو وہ اس میں اپنے لئے غذا پا لیتے ہیں۔ مگر اصلاحِ ذات والی باتیں کی جائیں تو وہ اس سے متنفر ہوتے ہیں کیوں کہ اس کا مطلب اپنی نفی ہے اور کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر حق کا اعتراف کرے رابطہ عالم اسلامی کے ہفتہ وار الدعوة (الرياض) مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۸۴ء میں شائع شدہ رپورٹ یہاں نقل کی جاتی ہے: وحید الدین خان فی الجامعة الاسلاميه المدينة المنورة / مندوب الدعوة ضمن الموسم الثقافى والذى تنظمه عمادة شئون الطلاب بالجامعة الاسلامية بالمدينة المنورة - استضافت الجامعة الداعية الاسلامي الشيخ وحيد الدين خان ، احد كبار علماء الهند والذى يزور الجامعة حالياً حيث ألقى اربع محاضرات خلال الاسبوع الماضي - هذا، وقد انتهى الشيخ وحيد الدين محاضراته بجوار مفتوح مع طلبة الجامعة - سعودی عرب کے ماہنامہ الفیصل ( ریاض) میں ایک کالم الحركۃ الثقافيه في الوطن العربی کے عنوان سے ہوتا ہے۔ مذکورہ جریدہ کی اشاعت شعبان ۱۴۰۳ ھ (مئی ۱۹۸۳ء) میں صفحہ ۱۳ پر جو رپورٹ درج ہے وہ یہاں نقل کی جاتی ہے: محاضرات 1| الاسلام المعاصر - محاضرة أقاها الشيخ وحيد الدين خان ، وذلك بالجامعة الاسلامية (المدينة المنورة) 2| الاسلام والمشاكل العصرية - محاضرة أقاها الشيخ وحيد الدين خان بالجامعة الاسلامية 3| التضامن والدعوة الاسلامية - محاضرة أقاها الشيخ وحيد الدين خان بالجامعة الاسلامية

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader