Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

امکانات جديدة للدعوة الاسلامية - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان وذلك بالجامعة الاسلامية بالمدينة المنورة والجدير بالذكر ان هذه المحاضرات الاربع قد القاها فضيلته خلال شهر جمادى الآخرة ۱۴۱۰ ھ و ذلك خلال زيارته للجامعة ۴ مارچ کو ایک صاحب عبد القادر العماري (الجزائر ) نے انٹرویو لیا ۔ وہ اخبار المدینہ کے نمائندہ تھے۔ انھوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات لکھ رکھے تھے۔ میں نے کچھ سوالات کے جوابات دئے اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کے جوابات سے معذرت کی۔ میں نے دیکھا کہ میرے جوابات کے بعد دوبارہ وہ نئی شق نکال کر سوال نہیں کرتے تھے۔ اور میری معذرت فوراً قبول کر لیتے تھے۔ عبد القادر جزائری تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور کسی جماعت کے ساتھ دہلی (نظام الدین) بھی جا چکے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحثوں میں نہیں الجھتے۔ اور نہ اختلافی امور میں زیادہ شدت ظاہر کرتے۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں ان سے گفتگو کے دوران اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہے۔ کوئی بھی جواب انھیں چپ نہیں کرتا۔ ہر جواب کے بعد وہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال کر نئی بحث شروع کر دیتے ہیں۔ تیونس سے ایک ماہوار رسالہ نکلتا ہے جس کا نام ہے جو ہر الاسلام۔ پتہ یہ ہے : جو ہر الاسلام ، ۲۸ منہج جمال عبد الناصر ۔ تیونس (ٹیلی فون ۸۰۱ - ۲۵۹) ۴ مارچ کی شام کو جو ہر الاسلام کے دو نمائندے آئے اور اپنے رسالہ کے لئے انٹرویو لیا ۔ ان کے سوالات کچھ ہمارے مشن کے بارہ میں تھے اور کچھ موجودہ مسلم سیاست کے بارہ میں۔ میں نے اپنے مشن کے بارہ میں سوالات کے جوابات دئے ۔ مگر موجودہ سیاست کے بارے میں جواب دینے سے اعراض کیا۔ روزنامہ عکاظ کے دو نمائندے ۱۱ مارچ کی شام کو میری قیام گاہ پر آئے۔ اور اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا ۔ ان کے سوالات بھی کچھ مرکز اسلامی کے بارہ میں تھے۔ اور کچھ عالمِ اسلام کے بارہ میں۔ المعهد العالی للدعوة الاسلامیة ( مدینہ) کی طرف سے ایک ماہانہ پر چہ نکلتا ہے جس کا نام ہے رسالة المعهد اس کے نمائندہ محمد ضیاء الدین صاحب نے ۵ مارچ کی شام کو رسالة المعهد کے لئے انٹرویو لیا۔ محمد ضیاء الدین صاحب نوجوان ہیں اور حلب (شام) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ مدینہ میں وزارتِ الاعلام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ رسالہ المعهد کے جوابات کا اردو ترجمہ یہاں بطورِ نمونہ نقل کیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page