سفر مدینہ
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ حج کے زمانہ میں نظر آتا ہے۔ قدیم مسجد نبوی کے مقابلہ میں موجودہ مسجد نبوی بہت زیادہ بڑی ہو چکی ہے۔ پوری مسجد بڑے بڑے پائیوں پر قائم ہے۔ پائیوں کے اوپر خاص طرح کے نشانات اس کی توسیع کی تاریخ بتاتے ہیں۔ اندر کی طرف کچھ پائیوں پر خاص طرح کے رنگ مسجد نبوی کے قدیم رقبہ کو بتا رہے ہیں۔ اس کے بعد کے پائیوں پر دوسرے نقوش ہیں جو اس توسیع کو ظاہر کرتے ہیں۔ جو حضرت عثمان کے زمانہ میں ہوئی۔ اس کے بعد اس توسیع کے نشانات ہیں جو ترک خلافت کے زمانہ میں کی گئی۔ اور اس کے بعد نسبتاً جدید طرز کی شاندار تعمیرات ہیں جو سعودی حکومت کے زمانہ میں کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود جب نماز کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اپنی تمام توسیع اور اضافوں کے باوجود بدستور ناکافی ہے۔ حرم میں نماز کے وقت امام کی آواز بہت صاف سنائی دیتی ہے، امام خواہ سجدہ میں ہو یا رکوع میں یا قیام میں۔ میں نے جاننا چاہا کہ یہاں لاؤڈ اسپیکر کا کیا انتظام ہے کہ ہر حال میں امام کی آواز مقتدیوں تک بالکل صاف پہنچتی رہتی ہے۔ ایک روز قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ امام کی جگہ پر کئی بہت اچھے قسم کے مائیک لگے ہوئے ہیں۔ یہ مائیک نیچے سے لے کر اوپر تک ہیں۔ چنانچہ امام خواہ سجدہ میں ہو یا رکوع میں یا قیام کی حالت میں، مائیک ہر حالت میں اس کی پوری آواز پکڑ لیتا ہے۔ یہی انتظام موذن کے لئے بھی ہے۔ چنانچہ موذن جب اذان دیتا ہے تو اس کی آواز میلوں تک سنائی دیتی ہے۔ قدیم مسجد نبوی کی اذان اگر ایک فرلانگ تک سنائی دینی ہوگی تو آج مشینی دور میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی اللہ اکبر اور حی علی الفلاح کی آواز ایک سو فرلانگ کے دائرہ میں گونجے____ تاریخ کے امکانات کہاں سے کہاں تک چاہئے ہیں۔ حرم کے بالکل قریب ٹھہرنے کی وجہ سے پانچوں وقت کی نمازیں حرم میں ادا کرنے کا موقع ملا۔ یہ نغمت مجھے خدا کے فضل سے دو بار ملی۔ پہلی بار حج کے موقع پر۔ دوسری بار موجودہ سفر میں۔ تاہم ایک چیز میرے لئے بڑی عجیب تھی ۔ اور وہ تھا حرم میں خواتین اسلام کا اپنا ” حق مساوات “ وصول کرنا ۔ حرم کا ایک بڑا حصہ صرف خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ حصہ عام طور پر بھرا رہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس حصہ میں عام طور پر جماعت شروع ہونے سے پہلے خاموشی رہتی ہے۔ مگر جیسے ہی جماعت کی نماز شروع ہوتی ہے اس حصہ سے بچوں کے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ یہ آوازیں مسلسل جاری رہتی ہیں یہاں تک کہ جیسے ہی امام سلام پھیر کر جماعت ختم کرتا ہے بچوں کے شور کی آوازیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ آجکل والدین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے زندہ کھلونا بننے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader