سفر مدینہ
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
رہتے ہیں۔ چنانچہ خواتین جب نماز کے لئے حرم میں آتی ہیں تو بچوں کو لانا بھی ان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ نماز شروع ہونے سے پہلے بچے اپنے ماؤں کی گود میں ہوتے ہیں۔ جب نماز شروع ہوتی ہے تو پاس کی جگہ پر انھیں رکھ کر وہ نماز کے لئے کھڑی ہو جاتیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین جب نماز میں مشغول ہوتیں تو ان کے بچہ اپنے کھلونے سے محروم ہو جاتے۔ اور اس بنا پر رونے چیخنے لگتے۔ نماز ختم ہوتے ہی فوراً انھیں اپنا کھلونا مل جاتا اور وہ دوبارہ چپ ہو جاتے۔ یکم مارچ کی شام کو مغرب سے کچھ پہلے میں مسجد نبوی چلا گیا۔ ہمارا ہوٹل (الحنیل) مسجد نبوی سے اتنا قریب تھا کہ تکبیر کی آواز بھی ہمارے کمرہ تک سنائی دیتی تھی۔ مسجد کے صحن میں بیٹھ کر میں سبز گنبد کو دیکھ رہا تھا جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے۔ اچانک ایسا محسوس ہوا گویا میں تصور کی سطح پر رسول خدا کے ساتھ مربوط ہو گیا ہوں۔ درمیان کا زمانی فاصلہ تھوڑی دیر کے لئے حذف ہو گیا۔ سبز گنبد میرے لئے ایک تاریخی تسلسل کی علامت بن گیا۔ اسلام میں بلا شبہ قبر پرستی نہیں ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کی قبر کا ثابت شدہ حالت میں مدینہ میں موجود ہونا آپ کی تاریخی اعتبار یت کا ایک پختہ نشان ہے۔ آدمی سبز گنبد کو دیکھ کر گویا ایک تاریخ کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے پیغمبر اسلام کی" قبر کا موجود رہنا بھی اسلام کی ایک استثنائی ضرورت ہے۔ یکم مارچ کی صبح کو ایک بار میں دسویں منزل سے اپنے کمرہ سے نیچے اترا۔ واپسی کے وقت معلوم ہوا کہ بجلی فیل ہو گئی ہے اور لفٹ کام نہیں کر رہی ہے۔ نیچے گراؤنڈ فلور پر بہت سے لوگ بجلی کی آمد کے انتظار میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ایک خالی نشست پر بیٹھ گیا۔ بظاہر ہر دماغ میں یہ تھا کہ اب ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ بجلی کے آنے کا انتظار کریں۔ کیوں کہ "دسویں منزل" تک سیڑھیوں کے ذریعہ چڑھ کر پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔ "آئیے کچھ ورزش کریں" اچانک میرے ساتھی نے کہا۔ میں سمجھا کہ شاید وہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں بیٹھے رہنے کے بجائے ہم لوگ تھوڑی دیر کے لئے باہر کہیں ٹہل لیں۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ وہ سیڑھیوں کے ذریعہ چل کر اوپر جانے کی بات کر رہے تھے۔ میں فوراً آمادہ ہو گیا اور ہم دونوں سیڑھی کے ذریعہ اوپر چڑھنے لگے۔ چند منٹ گزرے تھے کہ میں اپنی منزل پر کمرہ نمبر ۹۰۱ میں داخل ہو چکا تھا۔ ہر کام جو بظاہر مشکل یا نا ممکن نظر آتا ہے۔ وہ یقینی طور پر ممکن اور آسان ہے، بشرطیکہ ہمت کر کے اس کو شروع کر دیا جائے۔ ہندوستان میں اگر کسی کی موت ہو اور اس کو نمازِ جنازہ کے لئے مسجد میں لایا جائے تو فرض نماز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader