Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ جب وہ بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’’وہ بیسویں صدی میں نہیں بول رہے ہیں بلکہ ’’صلاح الدین کے منبر پر کھڑے ہو کر اقوام عالم کو خطاب کر رہے ہیں۔ ۵ مارچ کو دوپہر کا کھانا رئیس جامعہ اسلامیہ دکتور عبداللہ صالح العبید کی طرف سے تھا۔ انھوں نے میرے اعزاز میں مدینہ کے ہوٹل میں ظہرانہ دیا۔ اس ظہرانہ میں چینی ہوئی اعلیٰ شخصیات موجود تھیں جن میں وزارت تعلیم کے وکیل بھی تھے۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے ایک خصوصی دعوت کی جس میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے پی اے استاد اسامہ خلیفہ بھی شریک تھے۔ ان مواقع پر ذمہ دار لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ شیخ محمد عمر فلانہ سے اسلامی مرکز کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہم سیاست سے دور رہ کر خالص دعوت کے میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری زبان سے نکلا کہ ہندوستان کے حالات میں موثر کام کرنے کے لئے سیاست سے دور رہنا ضروری ہے۔ شیخ محمد عمر فلانہ نے فوراً کہا کہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ہر ملک میں ضروری ہے۔ سیاست میں مشغول ہو کر کوئی موثر کام نہیں کیا جا سکتا۔ پچھلے برسوں میں سیاسی اسلام کا ذوق اتنا بڑھا کہ اسلامی دعوت کو سیاسی دعوت کے ہم معنی بنا دیا گیا ۔ جہاد غیر مسلموں سے مقابلہ کے لئے تھا۔ انھوں نے جہاد کو مسلمانوں کی باہمی جنگ کا عنوان بنا لیا۔ مگر علی تجربہ نے اس کو نا کام ثابت کر دیا۔ چنانچہ عالم اسلام میں اب وہ دور شروع ہو گیا ہے جو بالآخر اس فکر کو بالکل بے قیمت بنا کر رکھ دے گا۔ اس سفر میں میری ملاقات ایک عرب قائد سے ہوئی ۔ وہ پہلے سیاسی اسلام کے داعی تھے۔ اب وہ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اسی کو صحیح اسلام سمجھتا ہوں۔ اور پچھلے ۲۰ سال سے اس کی تبلیغ کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ جس فکر پر آپ ۲۰ سال پہلے پہنچ گئے تھے ، ہم اس پر صرف ایک سال پہلے پہنچے ہیں۔ رئیس الجامعہ دکتور عبداللہ صالح العبید سے میں نے پوچھا کہ آپ نے الاسلام تجدیدی پڑھی ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کس نے نہیں پڑھی ہے۔ اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے کہ الاسلام تجدیدی کے بعد دوسری تصنیفات کیا ہیں اور وہ عربی میں منتقل ہوئیں یا نہیں۔ یہاں جس جگہ بھی جانا ہوا یا جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے یہی بتایا کہ اس نے الاسلام تجدیدی پڑھی ہے۔ بعض نے کہا کہ میں نے اس کے بارہ میں بہت کچھ سنا ہے۔ اور اس کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ الجامعة الاسلامیہ میں انڈونیشیا کے ایک طالب علم نے بتایا کہ انڈونیشی زبان میں بھی الاسلام تجدیدی کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے میرا پتہ لیا اور کہا کہ اس کا ایک نسخہ میں آپ کو ڈاک سے روانہ کروں گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page