Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

زمانہ کے مسلمانوں سے زیادہ بڑے ظلم سے دوچار تھے۔ مگر شاہ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیار نے جو تقریر کی اس میں وہ "کھونے" کا شکوہ نہیں کرتے بلکہ "پانے" کا ذکر کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اگر دوبارہ اٹھانا ہے تو ان کے اندر بھی یہی ذہن پیدا کرنا ہوگا۔ ایک غیر عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عالم تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ قرآن پر ایک تحقیقی کتاب لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ قرآن کے مطالعہ میں گزارا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنے مطالعہ کی روشنی میں بتائیے کہ قرآنی تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا : اس حیثیت سے میں نے زیادہ غور نہیں کیا۔ میرے لئے یہ سوال اچانک ہے۔ اس لئے مجھے سوچ کر بتانا ہوگا۔ اسی طرح ایک اور صاحب ملے انھوں نے کہا کہ میرا موضوع قرآن ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے خود قرآن میں پائی ہو، جو آپ کی اپنی دریافت ہو۔ مگر وہ قرآن میں کسی خود دریافت کردہ حقیقت کی نشاندہی نہ کر سکے _ کیسے عجیب ہوں گے وہ قرآن کو پڑھنے والے جن کے ذہنی خانہ خانہ میں قرآن نے کسی نئی چیز کا اضافہ نہ کیا ہو۔ اس سفر کے دوران ایک عرب ملک کی ایک بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا، عرب امام نے کافی لمبا خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں "بیع" کے مسائل نہایت تفصیل سے بیان کئے گئے تھے۔ تاہم ان مسائل میں اکثر ایسے تھے جن کا آج کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسا محسوس ہو اک وہ بس کتاب کی باتوں کو دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ جو لوگ مسلمانوں سے جنگ کریں ان کو ہتھیار بیچنا حرام ہے (بیع السلام علی من يحارب المسلمين حرام)، یہ مسئلہ صلیبی جنگوں کے زمانہ کا ہے۔ اس زمانہ میں عراق و شام کے علاقہ میں دنیا کے بہترین ہتھیار بنتے تھے۔ چنانچہ جنگ کے وقفوں میں یوروپی تاجر یہاں آکر ہتھیار خرید لیتے تھے۔ چونکہ یہ اندیشہ تھا کہ یہ ہتھیار وہ یوروپی قوموں کے ہاتھ نہیںپیں گے اور وہ ان کو اگلی صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے۔ اس لئے اس وقت کے علماء نے فتویٰ دیا کہ جو لوگ مسلمانوں سے برسر جنگ ہوں ان کو ہتھیار فروخت کرنا حرام ہے۔ یہ مسئلہ خود بتاتا ہے کہ وہ ایسے وقت سے متعلق ہے جب کہ سلمان ہتھیار فروخت کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ مگر موجودہ زمانہ میں تو مسلمان صرف اس کے خریدار ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج ہتھیاروں کی صنعت پوری طرح "کافروں" کے ہاتھ میں جا چکی ہے۔ اور خود مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان سے ہتھیار خریدے بغیر اپنے دشمنوں سے اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ ہمارے اکثر بڑے بڑے خطیبوں کا یہ حال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page