Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسطین کے ایک نوجوان احمد عزام سے گفتگو ہو رہی تھی۔ جس نے اردن میں فلسطینی تحریک کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں فلسطینی اتنے طاقت رکھتے کہ اسرائیل ان کے ڈر سے کانپنے لگا تھا کانت اسرائیل ترجف خوفا) میں نے پوچھا کہ شاہ حسین نے ابتدا ر فلسطینیوں کی کانی مدد کی۔ پھر بعد کو وہ کیوں ان کے خلاف ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطینیوں کی قوت شاہ حسین کی قوت پر غالب آگئی تھی۔ (قوتھا تغلب علی قوة الملك حسين ) اس بنا پر شاہ حسین نے ان کو مار کر اردن سے نکال دیا ۔ کیسی عجیب بات ہے ، اسرائیل اور شاہ حسین جس قوت سے کانپ رہے تھے وہی قوت اپنے کمزور حریفوں سے مغلوب ہو کر رہ گئی۔ فلسطینی تحریک کے موجودہ مرحلہ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ _ بدأة في فلسطين المحتلة ظاهرة العودة الى الاسلام من جديد ويظهر ذلك من خلال الالتزام التام المعظم الشباب الفلسطينيين ولن ذلك اركان المستقبل هو مستقبل الجهاد لان الناس قد اقتنعوا بان الثورات الوطنية لن تحقق شيئى ـ وان الجهاد هو الكفيل بتحرير فلسطين انشاء الله یعنی مقبوضہ فلسطین میں اسلام کی طرف واپسی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ اس کا اندازہ فلسطینی نوجوانوں کی اکثریت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور اس بنا پر میرا خیال ہے کہ فلسطین کا مستقبل جہاد کا مستقبل ہے۔ کیوں کہ لوگوں نے جان لیا ہے کہ وطنی جدوجہد سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور جہاد ہی فلسطین کی آزادی کی ضمانت ہے انشار اللہ۔ موجودہ زمانہ میں دور اسلام کا آغاز کی حقیقت بس وہی ہے جو اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ لوگوں کا اصل مقصد بدستور قومی اور وطنی جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد میں قومی اور وطنی نعرے لگانے سے کامیابی نہ ہو سکی ۔ اب ان کی مایوسانہ نفسیات نے اسلامی نعرے میں اپنے لئے نئی پناہ تلاش کر لی ہے۔ کچھ قائدین اسلام سے ایک مخصوص گروہ کے بارے میں گفتگو تھی ۔ انھوں نے اس گروہ کی ظلم و زیادتی کا ذکر کیا اور ان کے بارہ میں سخت الفاظ استعمال کئے ۔ میں نے کہا کہ _ اللہ انھیں ہدایت دے ۔ انھوں نے غصہ میں آکر کہا : ان الله لا يهدى القوم الكافرين . ان الله لا يهدى القوم الظلمين ہمارے پر جوش قائدین عموماً ایسے موقع پر اس طرح کی آیتیں پڑھتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اپنی روش کی تائید میں وہ قرآن کی محکم دلیل پیش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ سراسر غیر قرآنی بات ہے۔ ان آیات میں کافر اور ظالم سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جن کو ہم بطور خود کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا کا کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالے۔ اور خدا ان لوگوں کو کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالتا ہے جن پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page