سفر مدینہ
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
اتمام حجت کی حد تک دعوت پہنچائی جائے، پھر بھی وہ کفر اور ظلم کی روش پر قائم رہیں۔ بعض اشخاص نے عالم اسلام کے دینی مدارس کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں جو اسلامی ادارے قائم ہیں وہ اپنے اعلان کردہ مقصد کے برعکس نتائج پیدا کر رہے ہیں ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کا نظام جدلی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کے یہاں ساراز ور اساسیات کے بجائے جزئیات پر ہے۔ ان میں سے کسی کا زور اعتقادی اختلاف پر ہے، کسی کا فقہی اختلافات پر اور کسی کا سیاسی اختلافات پر۔ اب چوں کہ جزئیات میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں کے ماحول میں جس کی تربیت ہوتی ہے وہ خلضیات کا ماہر ہو کر نکلتا ہے۔ ایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام تجدی پڑھی۔ الدین فی مواجہۃ العلم پڑھی۔ الاسلام والعصر الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں ۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے۔ مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب ”حکمتہ الدین “ پڑھی تو وہ پسند نہیں آئی۔ اس میں آپ نے الاخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔ اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے ۔ جن جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانہ میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ انھوں نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر حکمراں کے دو طبقوں میں بانٹ رکھا ہے اور دونوں کے درمیان زبر دست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔ تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں ۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے باوجود الاسلام تجدی کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیاء الدین ملا جعی (حلب، شام)، اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارہ میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آ سکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قبل يدا بالنيابة عنی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader