Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

آغاز کلام

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

لیبیا کے لیے میرا ویزا ابتدا از صرف دو ہفتے کے لیے تھا۔ مگر وہاں کچھ لوگوں نے مزید قیام کے لیے اصرار کیا۔ انھوں نے ویزا کی مدت میں توسیع کرائی۔ چنانچہ میں تقریباً دو مہینے (فروری ۔ مارچ ۱۹۶۷) وہاں مقیم رہا۔ یہ قیام زیادہ تر طرابلس میں رہا۔ اگرچہ بعض تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے دوسرے مقامات پر بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ مثلاً رومی دور کے کھنڈرات، اٹلی کے دور کی یادگاریں وغیرہ اس دو ماہ کے قیام میں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا، دو عرب نوجوان محمد سلیمان القائد اور علی البعیدی روزانہ قلم کاغذ لے کر آتے اور گھنٹوں ان سے تبادلۂ خیال جاری رہتا۔ دوران گفتگو وہ نوٹ بھی لیتے رہے۔ ان ملاقاتوں کے نتیجہ میں محمد سلیمان القائد کے اندر زبردست ذہنی انقلاب پیدا ہوا۔ اس سے پہلے ان کے اندر ’’ سیاسی اسلام ‘‘ والا ذہن تھا، اب ان کے اندر دعوت کا ذہن پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اس کے بعد وہ کیگالی (روانڈا) کے اسلامی مرکز سے وابستہ ہوئے اور حرص اندازِ آخرت کے انداز میں دعوتی کام شروع کیا۔ ان کی کوششوں سے اس ملک کے تقریباً ۲۰ ہزار آدمی اسلام میں داخل ہو گئے ۔ فال حمد للہ علی ذالك ۔ طرابلس کے دو ماہ کے قیام میں تقریباً ایک درجن مواقع پر خطاب کرنے کا موقع ملا۔ یہ تقریریں زیادہ تر توحید اور آخرت کے موضوع پر تھیں اور تربیتی انداز کی تھیں۔ مثلاً ۲۷ مارچ ۱۹۶۷ کی ایک تقریر میں میں نے کہا کہ یہاں طرابلس میں ایک متحف (میوزیم) ہے جو آپ میں سے اکثر لوگوں نے دیکھا ہوگا ۔ یہ میوزیم پہلے معمولی حالت میں تھا مگر اٹلی والوں نے اس کو ترقی دے کر نہایت اعلیٰ پائے کا بنا دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس میوزیم میں ایک بھس بھری ہوئی بکری رکھی ہے۔ اس کی گردن کے اوپر دو سر ہیں۔ اگر ایک شخص میوزیم کو دیکھ کر آئے اور اس سے پوچھا جائے کہ تم نے میوزیم میں سب سے زیادہ عجیب چیز کیا دیکھی، تو شاید وہ جواب دے گا کہ ’’ دوسری بکری ‘‘، مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے دنیا میں جو سب سے زیادہ عجیب چیز دیکھی وہ دوسرے والے انسان تھے۔ انسان کو اللہ تعالی نے ایک سر والا بنایا ہے۔ مگر وہ اپنی تخلیق کو بگاڑتا ہے اور دوسرا والا انسان بن کر رہ رہتا ہے ۔ انسان اپنے معاملہ میں ایک انداز سے سوچتا ہے اور دوسرے کے معاملہ میں دوسرے انداز سے۔ وہ اپنے مسائل کو ایک ڈھنگ سے حل کرتا ہے اور قوم کے مسائل کے بارہ میں دوسرے ڈھنگ کی تجویزیں پیش کرتا ہے۔ دنیا کے معاملہ میں اس کا ذہن دوسرا ہوتا ہے اور آخرت کے معاملہ میں دوسرا۔ جس شخص سے مفاد وابستہ ہو اس سے وہ دوسرے طریقہ سے ملتا ہے اور جس سے مفاد وابستہ نہ ہو اس سے دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page