Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

آغاز کلام

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

طریقہ سے ۔ اس قسم کے تمام انسان دوسرے انسان ہیں اور خدا کے تخلیقی نظام میں وہ بلاشبہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہیں ۔ جاتے ہوئے روم سے طرابلس کے لیے جہاز بدلنا تھا۔ مگر یہاں کنکٹنگ فلائٹ نہیں تھی اس لیے ہوائی کمپنی نے روم کے ایک ہوٹل میں ہمارے قیام کا انتظام کیا ۔ اس طرح ہم ۳۶ گھنٹے اس قدیم شہر میں رہے جس سے یورپ کی تاریخ کی بہت سی قدیم یادیں وابستہ ہیں ۔ روم کی یادوں میں سے ایک یاد وہ جرمن مستشرق ہے جس سے وہاں میری ملاقات ہوئی : Dr. Hans Georg Asmuseen, Propst, Beselerstrabe 28-2240 Heide, W. Germany. ایک موقع پر میں نے دیکھا کہ موصوف عربی انجیل کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ اس سے میں نے سمجھا کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں ۔ ان سے دیر تک مختلف مذہبی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ وہ جرمن لہجے میں کسی قدر اٹک اٹک کر عربی بولتے رہے ۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ مجھے عربی بائبل حاصل کرنے کا شوق ہے ۔ میرے پاس بائبل کا انگریزی ترجمہ موجود ہے ، مگر بائبل کا عربی ترجمہ میرے پاس موجود نہیں ۔ میرا مقصد صرف ادارہ کا پتہ پوچھنا تھا تاکہ اس کو خط لکھ کر وہاں سے عربی بائبل منگائی جاسکے۔ مگر انھوں نے ادارہ کا پتہ بتانے کے بجائے خود میرا پتہ دریافت کیا۔ اور اپنی ڈائری میں میرا پتہ نوٹ کرتے ہوئے کہا : میں آپ کو عربی بائبل بھجواؤں گا ۔ سفر کے ایک سال بعد کا واقعہ ہے کہ فروری ۱۹۷۷ء میں مجھے ڈاک سے ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو اس کے اندر پرانے اور نئے عہد نامہ پر مشتمل " الکتاب المقدس " کا ایک نیا نسخہ موجود تھا۔ فولڈنگ جلد کے ساتھ باریک کاغذ پر چھپا ہوا یہ خوبصورت نسخہ ۱۶۸۴ صفحات پر مشتمل ہے ۔ پرنٹ لائن کے مطابق بائبل کا یہ عربی نسخہ کوریا میں ۱۹۷۶ء میں چھپا ہے ۔ غالباً مستشرق موصوف کے ادارہ میں عربی نسخے ختم ہوگئے تھے ۔ تاہم انھوں نے میری فرمائش یاد رکھی اور جب عربی بائبل کوریا سے چھپ کر آئی تو انھوں نے حسب وعدہ فوراً اس کی روانگی کا انتظام کیا ۔ مسیحی حضرات دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی مقدس کتاب کے ترجمے شائع کر کے لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں ۔ مگر مسلمان ابھی تک قرآن کے معاملہ میں ایسا نہ کر سکے ۔ جرمن مستشرق کی طرف سے میں نے عربی بائبل کا نسخہ وصول کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو : دیکھو تم اسلام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page