Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتا ہے ( یسھل عملية الهضم انشاء الله ) ایک صاحب جو محامی ( وکیل) ہیں اور یہاں کھانے میں شریک تھے، انھوں نے ایک گفتگو کے درمیان بڑے درد کے ساتھ کہا: الناس كلهم یا اخی متعطشون الی الاسلام ( میرے بھائی، آج تمام لوگ اسلام کے پیاسہ ہیں) ۱۴ مارچ ( بروز جمعہ) ڈاکٹر احمد تو تو نچی کو ٹیلی فون کیا گیا اور میری ریاض میں آمد کا ذکر کیا گیا۔ وہ بہت خوش ہوتے اور فوراً کہا کہ انا احب الشيخ واحرص على لقائہ۔ مگر انھوں کہا کہ میں آج ہی دوپہر کو برونی ( افریقہ) روانہ ہو رہا ہوں، تاہم میں نماز جمعہ کے فوراً بعد شیخ کی قیام گاہ پر آکر ان سے ملاقات کروں گا۔ جمعہ کی نماز ہم لوگوں نے مسجد سلیمانیہ میں ادا کی۔ ایک عرب باصرار اپنے ساتھ وہاں لے گئے تھے۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹے تو ڈاکٹر احمد تو تو نجی یہاں موجود تھے۔ مجھ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ بار بار کہتے رہے کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کے کاموں کی ہمارے دل میں بہت قدر ہے۔ آپ ہمارا سرمایہ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ وہ ایک خوبصورت قسم کا بند پیکٹ اپنے ساتھ لائے تھے، جس پر لکھا ہوا تھا۔ هداية الى الشيخ وحيد الدين خان سلمہ اللہ تعالی۔ شیخ احمد تو تو نچی سے میں نے کہا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ آپ کے لیے ہے۔ میں نے کھولا تو اس کے اندر دو ایسی کتابیں تھیں جو عین میرا مطلوب تھیں۔ ایک قرآن کا جیبی نسخہ جو بائبل پیپر پر چھاپا گیا تھا۔ دوسرا حیات الصحابہ ( مولانا محمد یوسف کاندھلوی) کی جلدیں دمشق کی چھپی ہوئی۔ مجھے قرآن کے مذکورہ نسخہ کی عرصہ سے تلاش تھی۔ اسی طرح حیات الصحابہ کا دمشق میں چھپا ہوا نسخہ بھی میں بہت چاہتا تھا۔ الحمد للہ کہ آج ڈاکٹر تو تو نچی کے ذریعہ دونوں چیزیں مجھے مل گئیں ڈاکٹر احمد تو تو نچی آج ہی بیرونی ( افریقہ) جا رہے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ڈاکٹر طہ جابر العلوانی کو مطلع کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ مجھ سے ملتے رہیں اور میری جو بھی ضرورت ہو اس میں میری معاونت فرمائیں۔ اصحاب رسول کی زندگیاں اسلام کا زندہ نمونہ ہیں۔ چنانچہ اصحاب رسول کے بارہ میں اسلاف نے کثرت سے کتابیں اور تراجم لکھے ہیں۔ تاہم اس موضوع پر قدیم کتابوں کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک صحابی کو عنوان بنا کر اس کے تحت ان کے حالات لکھے جاتے ہیں۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ کیا کہ عملی عنوانات قائم کر کے اس کے تحت صحابہ کے احوال درج کئے۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page