Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

سالہا سال کی محنت کے بعد تمام ہوا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن حیدر آباد سے چھاپا گیا تھا، تاہم اس میں کثرت سے مطبعی غلطیاں تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے دو عرب علماء ، شیخ نائف العباس اور شیخ محمد علی دولہ کو یہ توفیق دی کہ وہ پوری کتاب کو دوبارہ تصحیح اور تعلیق کے ساتھ شائع کریں۔ وہ دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے جگہ جگہ جزئی اضافے بھی کئے ہیں ( ونضيف الكلام الذي نسبيه المؤلف اثناء النقل ) کتاب کا کاغذ ، چھپائی اور جلد ہر چیز نہایت عمدہ ہے اور دیکھتے ہی جی چاہتا ہے کہ اس کو پڑھنا شروع کر دیں۔ ریاض میں ڈاکٹر عبد الرشید صاحب سے ملاقات بھی قابلِ ذکر ہے۔ انھوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ وہ قرآن کے مطالعہ کا بے حد ذوق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قرآن اللہ اور بندہ کے درمیان مقام اتصال (Point of contact) ہے۔ اسی طرح انھوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر حب میں انسان کے جسم کو دیکھتا ہوں تو میں خدا کے کمالات میں ڈوب جاتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کے اختیار میں ہے۔ یہ گویا یا ایک ریموٹ کنٹرول کا نظام ہے۔ خدا اگر ریموٹ کنٹرول سے ہارٹ بیٹینگ کو روک دے تو ایک لمحہ میں ہمارا وجود ختم ہو جائے جدید دریافتوں نے اسلامی حقیقتوں کی تفہیم کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔ ۷ مارچ کی شام کو میں نے ریاض سے دہلی ٹیلیفون پر بات کی۔ ریاض اور دہلی کے درمیان ڈائرکٹ ڈائلنگ ہے۔ ٹیلیفون پر حسب ذیل نمبروں پر انگلی رکھی گئی : 0091 - 11 - 611128 اور ایک منٹ کے اندر دہلی میں ہمارے دفتر کے ٹیلیفون پر گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے ریسیور اٹھا کر "ہلو" کہا تو دوسری طرف سے ثانی اثنین کی آواز آگی ۔ یہ موجودہ زمانہ کی بہت زیادہ عام سہولت ہے ۔ مگر کتنے کم ہیں وہ لوگ جو اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خدا کو یاد کرتے ہیں۔ اس وقت آدمی اگر خالق کو یاد کرے تو اس کا حال یہ ہوگا کہ بنا ہر اگر چہ وہ ٹیلیفون پر کسی آدمی سے بات کرے گا مگر اس کی روح خدا سے ہم کلام ہو رہی ہوگی۔ ٹیلیفونی ربط اس کو خدا سے مربوط کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ سعودی عرب میں مختلف اخبارات نکلتے ہیں۔ اکثر عرب ملکوں کے اخبارات محض پروپیگنڈے والی باتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ تاہم سعودی عرب کے اخبارات نسبتاً کافی بہتر نظر آئے۔ یہاں ایک روزنامہ " عرب نیوز" کے نام سے نکلتا ہے جو بیک وقت جدہ اور ریاض سے شائع ہوتا ہے۔ عرب نیوز میں ہر روزانہ آخری صفحہ پر ایک دل چسپ کالم ہوتا ہے ۔ ۱۰ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ (۱۲ مارچ ۱۹۸۲) ایک رپورٹنگ کے ذیل میں حسب ذیل لطیفہ درج تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page