سفر مدینہ
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر مارچ ۱۹۸۴ میں سعودی عرب میں تھا۔ اس سفر کی تفصیلات پہلے سفر نامہ میں آچکی ہیں۔ اس سفر کے دوران ریاض میں مجھے شارجہ سے دکتور سالم کا ٹیلی فون ملا۔ انھوں نے اصرار کے ساتھ تجویز پیش کی کہ سعودی عرب کے بعد میں شارجہ کا سفر کروں۔ ان کی دعوت پر شارجہ (عرب امارات) کا سفر ہوا۔ ۲۱ مارچ ۱۹۸۴ کو ہم جدّہ سے دبئی کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ سفر سعودی ایرلائنز کے ذریعہ ہوا۔ ہمارا ٹکٹ ابتداً جدّہ سے دہلی کے لیے تھا۔ ہم نے چاہا کہ اس کو بدل کر جدّہ۔ دبئی دہلی کرا لیں ۔ مگر ہوائی کمپنیوں کے سخت قوانین کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ دکتور سالم نے خود براہِ راست کوشش کی ۔ مگر ہوائی کمپنی کسی بھی طرح روٹ میں تبدیلی پر راضی نہ ہوئی۔ آخر کار دکتور سالم نے اپنی طرف سے نیا ٹکٹ بھیجا، اس کے ذریعہ سے جدّہ سے دبئی کا سفر طے ہوا۔ ۲۱ مارچ کی شام کو ہم جدّہ سے دبئی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں مجھے سردی کا احساس ہوا تو اوپر کا خانہ کھولا کہ اس میں سے کمبل نکال کر پیروں پر ڈال لوں۔ مگر وہاں صرف تکیہ رکھا ہوا تھا۔ مجھ کو ٹٹولتے ہوئے دیکھ کر جہاز کا ایک کارکن قریب آیا اور بولا: Can I help you. (کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں) اردو میں اسی بات کو کہنا ہو تو آدمی کہے گا” آپ کو کیا چیز چاہئے “، زبان کا یہ اسلوب دونوں زبان کے بولنے والوں کے مزاج میں بھی منتقل ہوا ہے جس کا مظاہرہ مختلف علی پہلوؤں سے ہوتا رہتا ہے۔ ۲۰ مارچ کی شام کو ہمارا جہاز دبئی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ جیسے ہی میں ہوائی جہاز کی سیڑھی سے نیچے اترا، ہوائی اڈہ کا ایک افسر میرے قریب آیا اور سوالیہ انداز میں کہا: ” الشیخ وحید الدین “ میں نے کہا نعم ۔ اس نے مرحبا کہا اور کہا کہ دکتور سالم عبد اللہ المحمود باہر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آگے بڑھ کر ہوائی اڈہ کی عمارت میں داخل ہوا تو دوبارہ ہوائی اڈہ کے ایک ذمہ دار آگے بڑھے اور مذکورہ سوال کیا۔ اور پھر ہمارے ساتھ چلنے لگے۔ یہاں تک کہ ہم کو باہر پہنچا دیا جہاں لوگ ہمارے منتظر تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader