Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر ہے کہ ہندوستان کے اگلے سفر کے موقع پر اسلامی مرکز کی بھی زیارت کریں۔ جدہ میں ہم نے سرکاری مہمان بننے کے بجائے جناب محمد رفیق قریشی کی میز بانی کو پسند کیا۔ اس کی وجہ سے یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ڈاکٹر احمد محمد علی سے ملاقات ہوئی جو اسلامی ڈویلپمنٹ بنک کے صدر ہیں۔ مختلف ملاقاتوں کے درمیان میں نے محسوس کیا کہ راقم الحروف نے جو آواز میں سال پہلے بلند کرنا شروع کیا تھا اس کی اہمیت اب عام طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔ اب سوچنے سمجھنے والا طبقہ عام طور تسلیم کرتا ہے کہ دعوت اسلامی کا کام قومی اور سیاسی جھگڑوں سے الگ ہو کر کرنا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ جو بات پچھلے برسوں میں اجنبی بنی ہوئی تھی، بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب کہ وہی تمام لوگوں کی بات ہوگی۔ ۲۱ مارچ کی صبح کو ہم مولانا عبد الوحید ندوی کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ پہنچے۔ طواف کعبہ کے دوران بھیڑ نہیں تھی، اس لئے حجر اسود تک پہنچنے کا موقع بھی آسانی سے مل گیا۔ حجر اسود ایک بڑے پیالہ کے مانند نظر آیا۔ عمرہ گویا چھوٹا حج ہے۔ کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے جو احساسات ایک مومن پر طاری ہوتے ہیں ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page