سفر مدینہ
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر سالم عبد اللہ المحمود شارحہ کے ممتاز ترین ڈاکٹر ہیں۔ ان کے والد الشیخ عبد اللہ بن علی المحمود شارحہ کے ایک انتہائی ممتاز شخص تھے۔ یہاں ان کا مکان بجائے خود ایک محل معلوم ہوتا ہے۔ شارحہ میں ہماری آمد ڈاکٹر سالم عبد اللہ المحمود کی دعوت پر ہوئی ہے۔ انھوں نے غیر معمولی کوشش کی۔ ہمارے سعودی مملکت میں قیام کے دوران ان کے درجنوں ٹیلی فون آتے رہے۔ یہاں کے سفر میں، ہمارے لئے مختلف قسم کی شدید رکاوٹیں حائل تھیں مگر انھوں نے اپنے اثر و رسوخ سے ان تمام رکاوٹوں کو حل کیا۔ یہاں تک کہ شارحہ میں ہمارا داخلہ ممکن ہو سکا۔ شارحہ کا ہوائی اڈہ الگ ہے۔ تاہم ہم دوبئی کے ہوائی اڈہ پر اترے۔ یہاں سے شارحہ ۱۵-۲۰ منٹ کے فاصلہ پر ہے۔ دوبئی ہوائی اڈہ سے چلے تو دوبئی شہر کے مناظر سامنے تھے۔ اس کی شہری پلاننگ نہایت اعلیٰ ہے۔ غالباً تمام عرب ملکوں میں دوبئی اس اعتبار سے نمبر ایک پر ہے۔ اس کی غیر معمولی طور پر پر رونق دنیا سے گزرتے ہوئے میرے دل نے کہا: پٹرول کے کرشموں کا یہ حال ہے تو پٹرول کے خالق کے کرشموں کا کیا حال ہو گا ۔ عمل کیف کی امکانیات اتنی زیادہ ہیں تو عمل لطیف کی امکانیات کتنی زیادہ ہوں گی ۔ ہماری گاڑی ایک وسیع مکان کے سامنے رکی جو یہاں کی اہم ترین سڑک کے کنارے ہے۔ یہ مکتبہ الشیخ عبد اللہ بن علی المحمود“ کی عمارت تھی۔ یہ شارقہ (شارجہ) کا سب سے زیادہ سر سبز اور صاف ستھرا علاقہ ہے یہاں بڑے بڑے شیوخ رہتے ہیں۔ سڑکیں نہایت چکنی اور صاف ستھری ہیں۔ اور ان کے دونوں طرف یک منزلہ یا دو منزلہ مکانات پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی مکتبہ (لائبریری) کی وسیع عمارت میں میرا قیام تھا۔ اور اس کے وسیع ہال میں تقریر کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ عمارت کے باہر ایک بڑا سا خوبصورت بورڈ نظر آیا جس پر پروگرام کی تفصیل درج تھی۔ اس مضمون کا پوستر تیار کر کے پوری عرب امارات میں پھیلا دیا گیا تھا۔ پوسٹر کا مختصر عکس علیحدہ صفحہ پر درج کیا جا رہا ہے۔ ۲۳ مارچ کی شام کو نماز عشار کے بعد پروگرام تھا۔ لائبریری کا وسیع ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ بازو کے بڑے کمرے میں بھی کرسیاں بچھا ہوئی تھیں اور ٹیلیویژن Closed-circuit television کے ذریعہ آواز اور تصویر پہنچانے کا انتظام تھا۔ تاہم کرسیاں ناکافی ثابت ہوئیں اور کثرت سے لوگ کھڑے ہوئے نظر آئے معلوم ہوا کہ پورے عرب امارات سے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ صرف میری تقریر سننے کے لئے آیا تھا۔ لائبریری کے ایک کارکن نے بتایا کہ یہاں اکثر اجتماعات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر اتنی بڑی تعداد میں اس سے پہلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader