سفر مدینہ
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف ایک بار لوگ جمع ہوئے تھے جب کہ لائبریری کا افتتاح تھا اور سلطان شارجہ خود اس کا افتتاح کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے عربی مقالہ "الاسلام والتحديات العصرية" پڑھ کر سنایا۔ لوگ انتہائی خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔ مقالہ سے لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی کا ایک مظاہرہ یہ ہوا کہ مقالہ ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ہال میں ٹھہرے رہے اور دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ لوگ موضوع کے بارہ میں مزید تفصیل جاننا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر میں انشا اللہ ایک جامع کتاب تیار کر رہا ہوں جس کا انگریزی نام God Arises ہو گا۔ اجتماع کے بیشتر شرکا ر بے حد خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ مقالہ کو سنتے رہے اور مقالہ سننے کے بعد غور و فکر میں ڈوبے ہوئے نظر آئے۔ مگر چند لوگ جن کا تعلق ایک خاص جماعت سے تھا اور جو سیاسی اسلام کے بارہ میں میری تنقیدوں سے برہم ہیں وہ غیر متعلق سوالات کر کے فضا کو برہم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کے سوالات زیادہ تر ایسے تھے جن کا تعلق اصل موضوع سے نہ تھا بلکہ میری ذات کو مطعون کرنا تھا۔ مثلاً آپ نے جہاد کو ساقط کر دیا ہے۔ آپ حدیث کی حجیت کے منکر ہیں۔ آپ اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ آپ قادیانیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ظالموں کی حمایت کرتے ہیں۔ وغیرہ اجتماع کے عام شرکا ر کو ان سوالات سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ چند آدمی (خاص طور غالباً دو آدمی) اس سلسلے میں بہت پیش پیش تھے۔ میں نے ابتداً مختصر جوابات دئے مگر ان کی تیزی اور شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ بہت زور زور سے بولنے لگے۔ اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ اسلامی اصول کے مطابق ان سے اعراض کرنا چاہئے۔ چنانچہ میں نے مائک پر حسب ذیل الفاظ کہے اور پھر خاموش ہو گیا: عفوا يا اخي، لا فائدة في مثل هذه الاسئلة والاجوبة۔ لان هذه الاسئلة ليسلت اسئلة بل هي كلها جدال۔ ونبينا صلى الله عليه وسلم قد نهانا عن الجدال۔ واني لا اقول الا ما قال المؤمنون الاولون عن المجاد لين، سلام عليكم، لا نجاهلكم۔ لنا ما نحن عليه ولكم ما انتم عليه ( یہ آخری قول نجران کے ان مومنین کا تھا جن کا ذکر قرآن کی سورۃ القصص، آیت ۵۵ میں آیا ہے۔ ۲۵ مارچ کی صبح کو محمد رضی نے انٹرویو لیا۔ وہ ایک مصری نوجوان ہیں۔ اور یہاں ماہنامہ الاصلاح (دبئی) سے وابستہ ہیں۔ انٹرویو میں میری ذات سے متعلق سوالات، المركز الاسلامی کے مقاصد اور سرگرمیاں اور ہندوستان اور عالم اسلام کے حالات کے بارہ میں سوالات تھے۔ انٹرویو تقریبا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader