سفر مدینہ
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
پر آخری حملہ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا پڑتا۔ گویا ہندوستان میں اس مدت میں جو قابلِ ذکر واقعہ ہوا وہ صرف مذکورہ بالا واقعہ تھا۔ موجودہ زمانہ کی صحافت اپنے تجارتی مقصد کے تحت انھیں واقعات کو نمایاں کرتی ہے جو سنسنی خیز ہوتے ہیں۔ یہ ہر ملک کی صحافت کا حال ہے۔ حالاں کہ واقعات کی اصل فہرست اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جو شخص ملک کے اندر ان سنسنی خیز واقعات کو پڑھ رہا ہو وہ بھی اگرچہ اس سے گمراہ ہوتا ہے۔ مگر نسبتاً کم ۔ کیوں کہ خود واقعات کے درمیان ہونے کی بنا پر وہ دوسری قسم کے واقعات کا کسی تجربہ سے اور مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ مگر جو شخص باہر کے ملک میں ہو اور جس کا ذریعہ صرف مذکورہ بالا قسم کی صحافت ہو وہ کسی ملک کے بارہ میں عجیب و غریب قسم کی رائے قائم کر لیتا ہے۔ جو سراسر غیر حقیقی اور مغالطہ آمیز ہوتی ہے۔ باہر کے ملکوں میں اپنے ملک کی خبر پڑھتے ہوتے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ملک کے بارہ میں نہیں پڑھ رہے ہیں بلکہ کسی اجنبی ملک کے بارہ میں پڑھ رہے ہیں۔ حیدر آباد کے فساد (جولائی ۱۹۸۲) کے موقع پر میں کو الالمپور میں تھا۔ وہاں کے اخبار نیو سنڈے ٹائس ( ۲۹ جولائی ۱۹۸۲) میں بیرونی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے حیدر آباد کے فرقہ وارانہ فساد کی خبر چھپی۔ یہ خبر بجائے خود بھی مبالغہ آمیز تھی۔ مگر خبر کے ساتھ یہ الفاظ انتہائی حیرت انگیز تھے : Hindus and Muslims have long had cultural and religous antagonisms. When the Muslims ruled India in the 10th and 18th centuries, they attempted to crush worship and culture, fuelling Hindu resentment. (انڈیا کے) ہندو اور مسلم لمبے عرصہ سے ثقافتی اور مذہبی دشمنی میں مبتلا ہیں۔ جب ۱۰ ویں صدی اور اٹھارویں صدی کے درمیان ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو انھوں نے ہندوؤں کے مذہب اور ثقافت کو کچلنے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے ہندوؤں میں ناراضگی کا جذبہ بھڑک اٹھا۔ جو لوگ اس قسم کی خبریں پڑھیں ان کا ذہن کس قدر غلط بنے گا۔ مگر اس کے لئے ہمیں خود اپنے آپ کو الزام دینا چاہئے نہ کہ دوسروں کو۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں قدیم ذہن کے ساتھ داخل ہوئے۔ وہ زندگی کے صرف انہی شعبوں سے آشنا تھے جو ہزاروں برس سے چلے آہے تھے۔ نئے شعبوں سے وہ بالکل بے خبر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم شعبوں (مثلاً خطابت اور شاعری) میں انھوں نے بہت نام پیدا کیا۔ مگر جدید شعبوں کی اہمیت سے وہ اس قدر بے خبر تھے کہ وہ اس میں داخل بھی نہیں ہوئے ۔ انھیں میں ایک خبر رسانی کا ادارہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader