سفر مدینہ
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
۳ تنقیدی جائزہ (criticism) ۴ دونوں کے امتزاج سے صحیح اسلامی نصاب کی تیاری (synthesis) انھوں نے بتایا کہ اس وقت مختلف ملکوں کے نصف ملین مسلمان مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا اہم ہے۔ پوری جدید نسل کا ذہن بگڑا جا رہا ہے۔ اس کو درست کرنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ جدید معیار کے مطابق اعلیٰ نصاب تیار کیا جائے۔ سیمینار کے حاضرین نے اس تخیل کو بے حد پسند کیا۔ ایک صاحب نے فرمایا، Idea of producing textbooks is absolutely a wonderful idea تاہم ذاتی طور پر میں اس معاملہ میں پرجوش نہ ہو سکا۔ میرے نزدیک اولاً تو اس قسم کا نصاب بنانا ہی مشکل ہے۔ اور بالفرض اگر وہ بن جائے تو موجودہ حالت میں وہ رائج نہیں ہو سکتا۔ آج کی تعلیم گاہوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ درحقیقت وقت کے غالب افکار کا انعکاس ہے۔ جب تک عالمی سطح پر ان افکار کا غلبہ ختم نہ کیا جائے، کوئی دوسرا نصاب جدید تعلیم گاہوں کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اور بالفرض مسلمان خود اپنے تعلیمی ادارے بنا کرو ہاں ان کتابوں کو پڑھائیں تو ایسی درس گاہوں کا وہی انجام ہو گا، جو موجودہ زمانہ میں ان اسلامی مدرسوں کا نظر آتا ہے جن کے آگے ہم نے جامعہ کا بورڈ لگا رکھا ہے۔ بحث کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ نصاب کے ساتھ ساتھ ہمیں اساتذہ بھی تیار کرنے ہوں گے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے مثال دی کہ سوڈیم اور کلورین دونوں الگ الگ زہر ہیں۔ مگر جب ان کو ملایا جاتا ہے تو ان کا مرکب (سوڈیم کلورائڈ) سادہ نمک بن جاتا ہے۔ اسکول کا استاد جب طالب علم کو یہ بتاتا ہے تو طالب علم پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ استاد اس کے جواب میں نیچر کا لفظ بول دیتا ہے۔ وہ مقام جہاں طالب علم کے ذہن میں خدا کا تصور ڈالا جا سکتا تھا۔ وہاں غلط استاد اس کے ذہن میں نیچر کو ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ طالب علم سمجھ لیتا ہے کہ سب کچھ نیچر کر رہی ہے۔ تنقیدی طور پر اگر وہ خدا کو مانے تب بھی اس کا اصل ذہن غیر خدا والا بن جاتا ہے۔ ایک صاحب نے گفت گو کے دوران حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول نقل کیا : لن يُسْأَلَ الجاهِلُ لَمْ لَمْ يَتَعَلَّمْوا ولكن يُسْأَلُ العُلماء لِمَ لَمْ يُعلموا (نهج البلاغة)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader