Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

جاہلوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے سیکھا کیوں نہیں۔ بلکہ عالموں سے یہ پوچھا جائے گا کہ انھوں نے سیکھا یا کیوں نہیں۔ اس قسم کے اقوال کو عام طور پر لوگ مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان کا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ حالاں کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کا مسئلہ بھی ہے۔ جو لوگ سچائی سے بے خبر ہیں ان سے زیادہ ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو سچائی سے باخبر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی یہی غفلت ہے جس نے انھیں اللہ کی مدد سے محروم کر رکھا ہے۔ جب تک مسلمان بے خبروں کو باخبر کرنے کے لئے نہ اٹھیں گے وہ خدا کی مدد کے حق دار نہیں بن سکتے۔ ۲ جولائی کو ڈاکٹر روزے گارودی کا مقالہ تھا۔ انھوں نے اپنا مقالہ فرانسیسی زبان میں لکھا تھا جو ان کی مادری زبان ہے۔ اس مقالہ کا ترجمہ کو لالپور میں انگریزی میں کرایا گیا۔ یہی انگریزی مقالہ انھوں نے پڑھ کر سنایا۔ آج ہال سب سے زیادہ بھرا ہوا تھا۔ ڈاکٹر گارودی کے مقالہ کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام اور عقل میں کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں۔ یہ پہلے بھی مصنوعی تھا اور آج بھی مصنوعی ہے۔ لوگ بطور خود کچھ نظریات بناتے ہیں اور ان کو اسلامی کہہ کر پیش کرتے ہیں اس سے عقل اور اسلام کے درمیان مصنوعی ٹکراؤ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ It arises artificial conflict between reason and Islam ڈاکٹر گارودی نے کہا کہ اسلام کو زندہ کرنے لئے ضرورت ہے کہ قرطبہ یونیورسٹی ورسٹی کو دوبارہ زندہ کیا جائے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اسپین میں دوبارہ اسلام پھیل رہا ہے۔ اسپینی نو جوان اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہاں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو ”اسلام کو اسپینی تاریخ کا لایتنفک جزو“ قرار دیتے ہیں۔ ایک اسپینی نو مسلم نے کہا ”بہت جلد طرطبہ میں مسلمانوں کی تعداد خلافت کے زمانہ سے بھی زیادہ ہو جائے گی“ ڈاکٹر روزے گارودی (پیدائش ۱۹۱۳) فرانس کے کمیونسٹ لیڈروں میں سے تھے۔ Dr. Roger Garaudy 18-A, Av. du Boucht, 1209 Geneve, Switzerland انھوں نے ۱۹۸۲ میں اسلام قبول کر لیا۔ ان سے سیمنار کے دوران ملاقاتیں ہوئیں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا۔ میں نے اسلامی کلچر پر اپنی پہلی کتاب ۱۹۲۶ میں لکھی تھی۔ یہ کتاب اولا فرانسیسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page