Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے مثال دی کہ عبرانی زبان سیکڑوں سال سے مردہ زبان تھی۔ اسرائیل بننے کے بعد ایک یہودی عالم اسرائیل آیا۔ وہ اور اس کا خاندان عبرانی زبان بولتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں اسرائیل کی زبان عبرانی بناؤں گا۔ لوگوں نے اس کو ناقابل عمل سمجھا۔ بہنوں نے اس کو پاگل کہا۔ ایک یہودی عالم نے کہا کہ زبان کی مثال گلاس کی سی ہے۔ گلاس ٹوٹ جائے تو اس کو دوبارہ جوڑا جاسکتا۔ اسی طرح زبان ایک بار ختم ہو جائے تو اس کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر مذکورہ یہودی نے مجنونو نانہ طور پر اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آج عبرانی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ اسرائیل کی سرکاری زبان ہے۔ اس نے ٹوٹے ہوئے گلاس کو دوبارہ جوڑ دیا۔ ایک صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان پیدائشی طور پر بالکل بے علم اور بے خبر ہوتا ہے۔ اس کا سارا علم خارج سے حاصل شدہ علم ہوتا ہے۔ اس کی تائید میں انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی : والله اخرجكم من بطون امهاتكم لا تعلمون شيئاً.. النحل ، ۸ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی کوئی نظریہ قائم کرے اور اس کی تائید میں ایک آیت پیش کردے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی بات قرآن سے ثابت ہوگئی ہے۔ کیوں قرآن میں اگر مذکورہ بالا آیت ہے تو اسی کے ساتھ اس میں دوسری آیات بھی ہیں مثلاً : وعلم آدم الاسماء كلها فطرة الله التي فطر الناس عليها پہلی آیت کے ظاہری الفاظ سے اگر یہ نکلتا ہے کہ آدمی بے علم حالت میں پیدا ہوتا ہے تو دوسری آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو علم اسماء دیا گیا ہے۔ اس کی فطرت میں کچھ باتوں کا علم پیدائشی طور پر پیوست کر دیا گیا ہے۔ قرآن کے نظریہ علم کو سمجھنے کے لئے دونوں قسم کی آیتوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنی پڑے گی۔ پاکستان کے ایک صاحب سے گفتگو ہوئی ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے۔ پاکستان میں ہم کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ تھے: We are not the sons of soil, so we are treated as second class citizens

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page