سفر مدینہ
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے بیان کے مطابق سرکاری ملازمتوں وغیرہ میں مہاجرین کے ساتھ سخت امتیاز کیا جاتا ہے۔ اگر ان کا کہنا صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں بھی وہی صورت حال مختلف شکل میں موجود ہے جس کی ہندوستان کے مسلمان اپنے بارہ میں شکایت کرتے ہیں۔ کیسی عجیب تھی "تقسیم" کی سیاست جس نے ایک ملک کے مسلمانوں کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور تینوں میں سے کسی کو کچھ نہیں دیا۔ البتہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ چھین لیا۔ مگر اس سیاست کی ذمہ داری انگریزوں پر یا مسٹر جناح پر ڈالنا بدترین کلیگی ہے۔ یہ اپنے قصور کے لئے دوسرے کو ملزم ٹھہرانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جناح یا انگریز مدنے مسلمانوں کو غلط رخ کی طرف پکارا تو مسلمان اس کی طرف دوڑ کیوں پڑے۔ چنانچہ آج بھی قوم کا حال یہی ہے۔ آج بھی اگر کوئی اللہ کا بندہ مسلمانوں کو حقیقت پسندی کی طرف بلائے تو وہ اس کی آواز کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور دوبارہ جناح جیسی آوازوں کیطرف دوڑ رہے ہیں۔ آہ وہ لوگ جن کا حال اس آیت کا مصداق بن جائے: وان يروا سبيل الغي يتخذونه سبیلا وان يروا سبيل الرشد لا يتخذوه سبیلا ایک خاتون نے آرٹ کو اسلامی بنانے کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ مقالہ کا فنی معلوماتی اور دل چسپ تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام موسیقی (Sound art) کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی مثال خود قرآن ہے: Qur'an is a sound art par excellence ہر مسلمان قرآن کو ساؤنڈ آرٹ کے ساتھ روزانہ صبح کو دہراتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن کی آواز میں ایک حسن ہے۔ مگر اس خصوصیت کو فن کی حیثیت دینا غالباً اس قیمت پر ہوگا کہ "تدبر " کا پہلو اوجھل ہو جائے جو کہ قرآن کی اصل حیثیت ہے۔ اس کی مثال موجودہ زمانہ میں تجوید کا وہ فن ہے جس نے قرآن کی تلاوت کو ایک قسم کا آرٹ بنا کر تدبر کے پہلو کو مجروح کر دیا ہے۔ جو ” دکاتر ہ “ اس انٹرنیشنل سیمینار میں شریک تھے ان میں بڑی تعداد ان افراد کی تھی جو اپنے ملک میں اپنی قومی حکومت کے ظلم کا شکار ہوئے۔ اس کے بعد اپنے ملک میں حالات ناساعد پا کر وہ مختلف بیرونی ملکوں میں چلے گئے۔ انھیں میں سے ایک تعداد یورپ یا امریکہ پہنچ گئی۔ ان لوگوں کے لئے چوں کہ ذاتی محنت کے سوا کوئی اور سہارا باقی نہ تھا انھوں نے محنت شروع کر دی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader