سفر مدینہ
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ باہر کی دنیا میں بھی چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف درخت اور پہاڑ اور بادل اور آسمان دکھائی دے رہے تھے۔ اس طرح کی ایک دنیا میں اکیلے ایک انسان کی حیثیت سے کھڑا ہوا تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میرا وجود خدا کے وجود کا ثبوت بن رہا ہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ اس لئے نہیں مانتے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مادی کائنات میں کہیں کوئی زندہ اور باشعور ہستی بھی ہے۔ جو ہم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے۔ انہیں لوگوں کو اس وقت کوئی تعجب نہیں ہوتا جب کائنات کے کسی بعید مقام پر ایک نیا ستارہ دریافت ہو۔ وہ فوراً اس کو مان لیتے ہیں مگر ان کو یہ یقین نہیں آتا کہ یہاں خدا جیسا کوئی زندہ وجود بھی ہے جو کائنات میں کہیں ممکن ہے۔ مگر مذکورہ حال میں جب میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے تھا اور چیزوں کو دیکھ اور سمجھ رہا تھا، تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے وجود کی صورت میں خدا کے وجود کو دیکھ رہا ہوں! جیسے میں یہاں ہوں اسی طرح خدا بھی تو ہوگا! “ میں نے سوچا اگر یہاں ایک زندہ شخص موجود ہے تو کسی دوسرے مقام پر دوسری زندہ اور باشعور ہستی کیوں موجود نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ایک ماننے اور دوسرے ماننے میں صرف درجہ کا فرق ہے، ان میں نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ سیمنار کی کارروائی ۳۱ جولائی کی دوپہر کو ختم ہوگئی۔ اس کے بعد شہر میں ایک تقریر کا پروگرام تھا کوالا لمپور میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن۔ اس ادارہ کا مقصد مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری افسران کی تربیت کرنا ہے۔ ۳۱ جولائی کی سہ پہر میں یہاں میرا ایک پروگرام تھا۔ طلبہ اور اساتذہ کے سامنے ایک تقریر ہوئی جس میں ان کے سامنے اسلام کا عمومی تعارف کیا گیا۔ یہ تقریر بر انشار اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔ کوالا لمپور میں ایک اسلامی ادارہ ہے جس کا نام ہے: Regional Islamic Da’wah Council of Southeast Asia and the Pacific اس ادارہ کے صدر سابق وزیراعظم تنکو عبد الرحمن ہیں۔ اور اس کے ڈائرکٹر ایک امریکی نو مسلم ہیں جن کا نام حاجی فضل اللہ وملوٹ ہے۔ یہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہیں۔ وملوٹ صاحب کے پاس انگریزی الرسالہ آتا ہے۔ ان سے کوالا لمپور میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader