سفر مدینہ
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
مقتدیوں میں وزیر اعظم بھی شریک تھے ۔ امام نے پہلی رکعت میں یہ آیت پڑھی : یا دا ؤد انا جعلناك خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالحق ... النخل ۲۶ اس وقت ایسا معلوم ہوا جیسے " مذہب " امامت کے مقام پر ہے اور وقت کا " حکمران " اس کے پیچھے کھڑا ہوا احکام خدا وندی کو سن رہا ہے ۔ یہ واقعہ تھوڑی دیر کے لئے میری نظر میں مستقبل کی نیشنل بن گیا ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں آئندہ آنے والے اس دور کی تصویر دیکھ رہا ہوں جس کی پیشین گوئی احادیث میں وارد ہوئی ہے ۔ نماز کے بعد حاضرین کی طرف سے چند تقرریں ہوئیں ۔ آخر میں وزیر اعظم ڈاکٹر محمد (Dr Mahathir Mohammad) نے مختصر تقریر کی ۔ انھوں نے کہا کہ دوسروں کے ہاتھوں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نقصان ہے جو خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے ۔ انھوں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اپنے مسائل کے لئے دوسروں کو الزام نہیں دے سکتے ۔ ہمیں خود اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا : We cannot blame others. We have ourselves to blame. یہاں کھانا بھی سادہ تھا ۔ کھانا شروع ہوا تو وزیر زراعت ڈاکٹر انور ابراہیم میری میز پر میری کرسی سے ملی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ کھانے کے دور ان گفتگو ہوتی رہی ۔ انھوں نے بتایا کہ ملایا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پچاس فی صد ہے۔ مگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان متحد ہیں جب کہ دوسرے فرقے متحد نہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں تبلیغی کام ہو رہا ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت کم ۔ البتہ دوسرے میدانوں میں کافی ترقیاتی کام ہو رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ ملائشیا میں برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد زیادہ تر مسلمانوں نے کی ۔ بچوں کہ انھوں نے نو آبادیاتی دور میں جدوجہد آزادی کی قیادت کی تھی اس لئے دور آزادی میں انھیں غالب سیاسی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو اپنی سیاسی تاریخ کی وجہ سے یہ فائدہ مل سکتا تھا۔ مگر تقسیم کی تحریک چلا کر یہاں مسلمانوں نے خود اپنے آپ کو اپنی تاریخ سے کاٹ لیا۔ کوالا لمپور کے انٹر نیشنل ہاؤس میں ایک بڑا ہال نماز با جماعت کے لئے خاص کیا گیا تھا۔ یکم اگست کو میں وہاں پہنچا تو میں اکیلا تھا۔ ہال کی لمبی دیواریں پوری کی پوری شیشہ کی تھیں اس لئے باہر کی دنیا بھی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ اندر ایک بہت بڑا کمرہ تھا جس کے اندر مکمل سناٹا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader