Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ دوسرے ملکوں کا میں نے صرف ہوائی سفر کیا اور ان کی زمین پر نہیں اترا۔ اگر آپ کسی شخص یا قوم کے اوپر اور پر گزر جائیں تو وہ آپ سے تعرض نہیں کرتا۔ لیکن اگر آپ اس کی حقیقی زندگی میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو وہ تعرض کرے گا اور آپ کے خلاف رکاوٹیں ڈالے گا۔ قوموں کا یہ مزاج زندگی میں کامیابی کا نہایت گہرا اصول دیتا ہے۔ یہ کہ آدمی لوگوں کو چھیڑے بغیر اپنا کام کرے ۔ وہ اپنا منصوبہ اس طرح پورا کرے کہ وہ لوگوں کو بالکل بے ضرر معلوم ہو۔ شاید یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں فرمایا تھا ”تم سانپ کی مانند ہوش یار اور کبوتر کی مانند بے آزار بنو۔“ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کے برعکس ثابت ہوئے ہیں کہ ان کے لیڈر ضرر رسانی سے اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ دین کے نام پر قتل ، دین کے نام پر نفرت، دین کے نام پر جھگڑوں اور ہنگاموں نے اکثر ملکوں میں دینی کام کرنے کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ افریقہ کے ایک صاحب جو کیسا بلانکا کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں مسلمان بچوں کہ عام طور پر پر امن ہیں اور وہ بڑی حد تک سیاست سے الگ رہتے ہیں، اس لئے وہاں تبلیغ اسلام کے کام پر کوئی پابندی نہیں۔ یہاں اگرچہ عیسائی حکومت ہے مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی۔ چاہے سارے لوگ اسلام سے نکل جائیں یا سارے لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں (الحكومة لا تهتم بذالك۔ فليخرجوا كلهم ویدخلوا كلهم) یہی صورت حال تقریباً پورے افریقہ میں ہے۔ اس صورت حال نے افریقہ کے عظیم بر اعظم میں اس کا امکان پیدا کر دیا ہے کہ یہاں بغیر روک ٹوک اسلام کی اشاعت کی جا سکے۔ اگرچہ عملاً ابھی اس امکان کو بہت کم استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کچھ ملکوں میں مسلمان اپنے خلاف جھوٹی رکاوٹیں کھڑی کر کے دینی کام کی راہ میں مشکلات پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اور کچھ ملکوں میں اپنی غفلت کی وجہ سے مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ نتیجہ دونوں جگہ یکساں ہے۔ اگرچہ ایک مقام پر ایک سبب سے اور دوسرے مقام پر دوسرے سبب سے۔ میرے پاس کانفرنس کی طرف سے جو ٹکٹ آیا تھا اس میں ۴ نومبر کا پیشگی رزرویشن تھا۔ میں نے سمجھا کہ شاید ۲۵ نومبر سے کارروائی شروع ہونے والی ہے۔ چنانچہ رزرویشن کے مطابق ۲۴ نومبر کو دہلی سے روانہ ہو کر اسی دن شام کو کیسا بلانکا پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اصل کارروائی ۲۸ نومبر سے شروع ہوگی۔ اس طرح مجھے تین دن (۲۵ - ۲۶ - ۲۷ نومبر) غیر ضروری طور پر کیسا بلانکا میں گزارنے پڑے۔ یہ تین دن اگر چہ مجھے " فالو اسٹار ہوٹل" میں گزارنا تھا۔ مگر یہ تین دن اتنی مشکل سے گزرے کہ ایسا معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page