Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے کہا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا کہ یہ تو ہم فصیح عربی زبان میں بولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم مرا کو کے لہجہ میں عربی بولیں تو وہ آپ بالکل نہیں سمجھیں گے۔ اس کے بعد وہ مرا کو کے لہجہ میں بولنے لگا تو مجھے لگا تو مجھے ایسا معلوم ہو اگۆ یا وہ عربی کے علاوہ کوئی اور زبان بول رہا ہے۔ حضرت علی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف عرب قبائل سے ان کی اپنی بولی میں گفتگو کرتے تھے اور ہم اس کو بالکل سمجھ نہیں پاتے تھے۔ یہ صورتِ حال اسی لہجہ کے فرق سے پیدا ہوتی تھی۔ لہجہ کا فرق سننے والے کے لئے ایک زبان کو ایسی زبان بنا دیتا ہے جیسے وہ کوئی دوسری زبان ہو۔ ہندوستان میں میں پچھم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا تھا۔ مرا کو میں اس کے برعکس پورب کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مرا کو قبلہ کے دوسری سمت میں واقع ہے۔ اس سفر نے مجھے زمین کے ایک طرف سے اٹھا کر اس کی دوسری طرف پہنچا دیا تھا۔ مرا کو میں اس طرح نماز پڑھتے ہوئے اچانک یہ احساس ہوا کہ مسلمان ”پورب“ اور ”پچھم “ کا پابند نہیں ، وہ صرف ” قبلہ “ کا پابند ہے۔ دنیا اس رخ پر جا رہی ہو یا اس رخ پر ، ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم خدا کے رخ پر قائم رہیں، ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کبھی نہ ہٹیں ۔ کیسا بلانکا میں شہر کے اندرونی حصوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جو یہاں کا باشندہ ہے۔ مگر وہ صرف فرانسیسی میں بول سکتا تھا۔ عربی زبان بولنے پر قادر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں کچھ ایسے خاندان بھی ہیں جو فرانسیسی کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتے۔ یہ فرانس کے دورِ اقتدار کی نشانی ہے ۔ یہاں ٹیلی وژن سے لے کر زبان اور فرنیچر ہر چیز پر فرانسیسی تہذیب کا غلبہ نظر آتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام پس منظر میں جاتا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ جیسے کہ وہ ایک تاریخی روایت بن گیا ہو۔ کیسا بلانکا کی مختلف سڑکوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مگر سٹرک پر کوئی مسجد یا مینار دکھائی نہیں دیا۔ اذان کی آواز بھی کسی وقت سننے میں نہیں آئی۔ سڑکوں پر ہوٹل اور بینک اور دفاتر کی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں۔ مگر ان کے درمیان کہیں مسجد ابھری ہوئی نظر نہ آئی۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ مسجدیں سڑکوں کے پیچھے پائی جاتی ہیں۔ تاہم وہ زیادہ شاندار نہیں ہیں۔ ہندوستان سے نکل کر ہم بہت سے ملکوں سے گزرتے ہوئے مرا کو پہنچے۔ مثلاً خلیج عرب کے ممالک ، شام ترکی، یونان ، اٹلی وغیرہ ۔ ان ملکوں میں سے کسی کا بیپ پاس ویزا نہیں تھا ۔ جب کہ مرا کو میں داخلہ کے لئے مجھے نئی دہلی کے سفارت خانہ سے باقاعدہ ویزا لینا پڑا۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مرا کو میں میں زمینی مسافر تھا اور یہاں مجھ کو قیام کرنا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page