مراکو کا سفر
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر ابھی ۷۳ سال ہے۔ مگرکم عمر ہونے کے باوجود انہوں نے وہ کام کیا ہے جو بڑوں کے کام سے زیادہ قیمتی ہے۔ ان کا نام پتہ یہ ہے: Shariff Salim Shariff Hussein P.O. Box 128, Marsabit, Kenya. E. Africa آجکل کی زبان میں وہ کوئی معروف و مشہور آدمی نہیں مگر انہوں نے بہت قابلِ قدر کام انجام دیا ہے ۔ جناب شریف سالم شریف حسین نے بتایا کہ وہ پہلے راجدھانی نیروبی میں رہتے تھے۔ وہاں ان کے لئے ذاتی اعتبار سے بہت مواقع تھے۔ مگر انہوں نے محسوس کیا کہ شہر وں سے کام کرنا مکان کو گویا چھت کی طرف سے تعمیر کرنا نا ہے۔ وہ نیروبی چھوڑ کر ایک ہزار کلو میٹر دور ایک گاتوں مرسابت چلے گئے۔ وہاں اس وقت ان کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے بنیاد کھود کر ایک مدرس اور مسجد بنایا۔ انہوں نے کچھ ساتھیوں کو جوڑ کر یہ کوشش کی کہ لوگوں کے ذہن کو جگائیں۔ انہوں نے غریب بچوں کے کپڑے فراہم کئے ۔ انہوں نے ضرورت مند کسانوں کو مویشی خرید کر دئے۔ اس علاقہ کے لوگ بہت غریب ہیں۔ مگر انہوں نے لوگوں کے اندر حوصلہ پیدا کیا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں تمہاری سب سے بڑی دولت ہیں مثلاً وہ ایک گاؤں میں گئے۔ وہاں وعظ کیا۔ گاؤں والوں نے کہا ہمارے یہاں نہ مسجد ہے اور نہ مدرسہ ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے۔ تمہارے پاس پانی ہے۔ مٹی ہے پتھر ہے لکڑیاں ہیں۔ اور خدا کے دیئے ہوئے ہاتھ ہیں ان کو استعمال کرو۔ چنانچہ ان کی تحریک سے لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اینٹ تیار کی اور لکڑیاں جمع کیں اور تھوڑی سی سیمنٹ خرید کر خود اپنی محنت سے ایک مسجد اور مدرسہ کھڑا کر دیا۔ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا ” یہ مسجد اور مدرسہ اگر کسی بیرونی ملک کے ڈالرے بنا ہوتا تو کسی کو اس سے دل چسپی نہ ہوتی ۔ مگر آج گاؤں والوں کو اس کی ایک ایک اینٹ سے محبت ہے کیونکہ اس اینٹ کو انھوں نے خود اپنا پسینہ بہا کر بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پور علاقہ اس سے پہلے پسِ ماندہ حالت میں پڑا ہوا تھا مگر آج اس کو ہمارے گاؤں نے جگا دیا ہے (و لیکن قريتنا هذا الآن ايقظتهم) وہ تعلیم، تعمیر، دعوت اور اصلاح ہر میدان میں کام کر رہے ہیں انھوں نے اس کی جو تفصیل بتائی اس کو لکھنے کے لئے ایک پورا مضمون چاہئے تاہم اس کو سن کر میرے دل نے کہا کہ یہی غیر معروف لوگ ہیں جو دراصل اسلام کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ورنہ جہاں تک معروف اور مشہور لوگوں کا تعلق ہے انھوں نے تو اسلام کے نام پر اپنی شخصیت کی تعمیر کی ہے نہ کہ خود اسلام کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader