Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

۲ نومبر کو جب میں صبح ۷ بجے سو کر اٹھا تو اچانک خیال آیا کہ اگر دنیا سے ہوائی جہاز کا نظام ختم ہو جائے پانی کے مشینی جہاز بھی موجود نہ رہیں تو میں کیسا بلا نکاس سے ڈرٹی کس طرح واپس جاؤں گا۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہو جائے تو اتنا دور دراز سفر طے کرکے کے دوبارہ میرے لئے اپنے وطن واپس پہنچنا ممکن نہ ہوگا۔ اگر میں کسی طریقہ سے واپس روانہ ہوں تو شاید راستہ ہی میں مر جاؤں گا۔ غالب گمان یہ ہے کہ میرے مرنے کی خبر بھی میرے گھر والوں کو نہ مل سکے گی۔ ہمارے وہ اسلاف کیسے عجیب لوگ تھے جنھوں نے مشینی انقلاب سے پہلے خدا کے دین کو سارے عالم میں پہنچایا۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے کیا کیا مشقتیں اٹھائی ہوں گی، آج کے ایک انسان کے لئے ان کا اندازہ کرنا بھی ممکن نہیں۔ دین کا جو کام انھوں نے محنتوں کے ذریعہ کیا اس کو آج ہم سہولتوں کے ذریعہ بھی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ریاض کے اخبار الشرق الاوسط (۲۸ نومبر ۱۹۸۴) میں ایک مضمون اسرائیل کے بارہ میں تھا۔ اس میں یہ قصہ درج تھا کہ ایک عرب خاتون اسرائیل کے زیر قبضہ علاقہ سے باہر جا رہی تھی۔ سرحد پر ایک واقعہ گزرا جو اخبار کے الفاظ میں یہ تھا : قال لها الضابط الاسرائِیلی، و بین رایحة یا هذه ( الی این انت ذاهبة یا امرأة ) قالت له: انها ذاهبة الى الكويت لزيارة ابنائها۔ قال لها : سلمی علیهم و قولی لهم سنکون عندهم اسرائیلی فوجی نے کہا کہ اے عورت تو کہاں جا رہی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں کویت جا رہی ہوں، اپنے بچوں سے ملنے کے لئے۔ فوجی نے کہا کہ ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ ہم جلد ہی ان کے یہاں ہوں گے۔ ایک صاحب لندن سے آئے تھے۔ وہ خود نواردو نہیں جانتے تھے مگر وہ میرے لئے کچھ اردو اخبارات کا تحفہ لائے تھے جو پاکستانی حضرات لندن سے شائع کرتے ہیں۔ ان کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ اخبارات نہیں ہیں، بلکہ قوم کی موت کا مرثیہ ہیں۔ دو سرخیاں ملاحظہ ہوں : ۱۔ جشن میلاد النبی پر لندن میں فرزندان توحید کا فقید المثال جلوس عاشقانِ رسول کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ( وطن ۲۶ نومبر ۱۹۸۴ ) ۲۔ پاکستان بھارت سے مرعوب نہیں ہوگا۔ بھارت کو فوج کشی کا شوق ہے تو اسے پورا کر کے دیکھے ( جنگ ۲۶ نومبر ۱۹۸۴ ) یہ دونوں سرخیاں ان اخبارات کی شاہ سرخیاں ہیں۔ جس قوم کے دانشور اتنے سطحی ہو جائیں کہ اس قسم کی سرخیوں کے ساتھ اخبار نکالیں اور جس قوم کے عوام اتنے بے شعور ہوں کہ اس قسم کی خبروں اور سرخیوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page