Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کئی لوگوں نے اس کو پڑھا اور اتنا زیادہ پسند کیا کہ ان کو بے حد اشتیاق ہو گیا کہ مصنف کو دیکھیں۔ وہ لوگ مزید انگریزی کتابوں کا شدت کے ساتھ تقاضا کر رہے ہیں۔ ان کے نام رسالہ انگریزی جاری کر دیا گیا ہے۔ ایک صاحب یوگوسلاویہ سے آئے تھے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں (لاجین) کی جو تعداد ہے، اس میں ۸۰ فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ یہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر وہ چیز طاری کر دی گئی ہے جس کو قرآن میں "ذلت و مسکنت" کہا گیا ہے۔ ہم کو گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ مسلمانوں کا یہ حال کیوں ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔ ایک صاحب جو کویت سے آئے تھے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ کی مسلم تنظیموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں قرآن و سنت کی بنیاد پر اٹھی ہیں اس لئے ان کے پاس اچھے افکار کی کمی نہیں۔ مگر اس دنیا میں صرف فکر کافی نہیں بلکہ نظم اور منصوبہ بندی بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس اعتبار سے ان تنظیموں کی حالت افسوس ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک اسی لئے ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ منظم انداز سے کام کرتے ہیں۔ اور ہم اس لئے پیچھے ہو گئے ہیں کہ ہمارا کام نظم و ترتیب سے خالی ہوتا ہے (وما تفوق الغرب منا الا بالنظام وما تاخرنا منه الا بالفوضى وعدم النظام) ایک صاحب جو کناڈاسے آئے تھے، انھوں نے بتایا کہ کناڈا کی کل ۲۵ ملین آبادی میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کناڈا میں مکمل آزادی ہے۔ کسی قسم کا کوئی تعصب نہیں ہے۔ وہاں اسلامی دعوت کا کام کرنے کے زبر دست مواقع ہیں۔ مگر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے وہاں اگر آپس کے مذہبی جھگڑے کھڑے کر دئے ہیں۔ وہاں دوسروں کی طرف سے ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں۔ مگر اپنوں کی طرف سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں ایک نئی مسجد بنائی گئی ہے جس کی مالیات کی فراہمی میں ہم نے ۸۰ فی صد تک تعاون کیا تھا۔ مگر جب مسجد بن گئی تو اس کے اندر شدید مذہبی جھگڑے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ میں نے اور میری طرح بہت سے لوگوں نے اس مسجد میں جانا ہی چھوڑ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ مغرب میں مسلمانوں کی تصویر بہت خراب ہے۔ ان کو امکانی دہشت پسند (Potential terrorists) کہا جاتا ہے۔ اس میں اگرچہ یہودی پروپگنڈے کا دخل ہے۔ مگر خود مسلمانوں نے اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اور یہ دوسرا پہلو یقیناً زیادہ افسوس ناک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page