Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

رابطہ الجامعات الاسلامیہ (ص۔ ب ۲۴۴، الرباط) ایک شش ماہی مجلہ شائع کرتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۵ میں کتاب العدد کے عنوان کے تحت حیات الصحابہ مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر تبصرہ تھا۔ کتاب کے ابواب کی تفصیل دیتے ہوئے تبصرہ نگار نے لکھا تھا کہ علما کا قول ہے کہ قرآن کے بعد پیغمبر اسلام کا سب سے بڑا معجزہ آپ کے اصحاب کرام ہیں (ان اعظم معجزۃ للرسول بعد القرآن هو صحابته الكرام) چنانچہ اصحاب رسول کے حالات پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر حیات الصحابہ اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ مصنف نے زندگی کے تمام مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے صحابہ کی زندگی کو بطور نمونه مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح یہ ایک ایسی کتاب بن گئی ہے جس کی مثال کسی بھی دوسری کتاب میں نہیں ملتی (هكذا عاجل سيرة الرسول وصحابته الكرام بطريقة لا نجدها في اي كتاب غيره) تبصرہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ ایک عرب شیخ اپنے طالب علموں کو مستقل طور پر اس کتاب کے مطالعہ پر ابھارتے رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ : ان هذا الكتاب لم يؤلف على منواله في بابہ یعنی اس موضوع پر اس اسلوب میں اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ ایک صاحب بڑے پرجوش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل جہاد ہے۔ جہاد سے ان کی مراد قتال تھی۔ میں نے کہا کہ امت کے رہنما اسی قسم کے جہاد میں تو سو سال سے لگے ہوئے ہیں۔ پھر مسائل حل کیوں نہیں ہوئے۔ انہوں نے قرآن سے قتال کی آیتیں پڑھنا شروع کیں ۔ میں نے کہا کہ جن لوگوں نے قرآن میں صرف قتال اور جہاد کی آیتوں کو پڑھا ہے انہوں نے قرآن کو پڑھا ہی نہیں۔ قرآن اعراض کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال مکی دور کی زندگی ہے۔ قرآن ایڈجسٹمنٹ کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے۔ قرآن قتال کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال بدر اور احد کے واقعات ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ پہلی دونوں قسم کی تعلیمات بھول جائیں اور صرف قتال اور جہاد کی تعلیمات کو زور و شور کے ساتھ پیش کریں ، ان کا یہ پیش کرنا ویسا ہی ہے جیسے بہت سے غیر اسلامی ذہن کے لوگ قرآن کی ایک آیت کو لے لیتے ہیں اور اس سے اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے جنگ جو رہنماؤں کا قرآن کو پا نا لیا ہی ہے جیسے مذکورہ غیر اسلامی لوگوں کا قرآن کو پا نا۔ ایک عالی شان ہوٹل تھا ایک بہت بڑے سجے ہوئے کمرہ میں لوگ قیمتی سوفوں پر بیٹھے ہوتے تھے۔ لوگ ہنس رہے تھے۔ سگریٹ اور مشروبات پی رہے تھے۔ بے فکری کے ساتھ ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے۔ میں نے کسی چیز میں حصہ نہیں لیا۔ بالکل خاموش میں ایک نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے مجھے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page