Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفرنامہ غیر ملکی اسفار

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت لاہور کی مال روڈ (موجودہ شاہراہِ قائد اعظم) پر ٹیلرنگ کی ایک بڑی دکان تھی جس کا نام پی سیلارام اینڈ سنز تھا۔ یہاں کے ٹیلر ماسٹر ایک مسلمان تھے قرشی صاحب نے مجھ کو ان ٹیلر صاحب سے ملایا۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے کہا’’ یہ کسی اچھے خاندان کا لڑکا ہے اور غلطی سے یہاں آگیا ہے‘‘۔ انھوں نے اصرار کر کے مجھے واپسی پر آمادہ کیا۔ دو ہفتے کے بعد انھوں نے ٹکٹ خرید کر مجھے ٹرین پر بٹھا دیا اور میں اپنے وطن اعظم گڑھ واپس آگیا۔ جہاں تک یاد ہے واپسی ٹکٹ کا کرایہ میرے پاس نہیں تھا۔ وطن واپس آنے کے بعد میں نے منی آرڈر کے ذریعہ ٹیلر صاحب کی رقم انھیں بھیج دی۔ ۲۴ مارچ ۱۹۸۵ کو میں نے دوبارہ میور روڈ جا کر اسے دیکھا۔’’ جاوید منزل‘‘ اب ’’علامہ اقبال میوزیم‘‘ بن چکا ہے۔ مکان کا تعمیری نقشہ وہی پرانا ہے ۔ البتہ اس کو از سر نو مزین کیا گیا ہے۔ ایک تختی پر علامہ اقبال کے مختصر حالات لکھے ہوئے تھے ۔ اس میں یہ فقرہ بھی تھا : ۱۹۳۰ء میں الہ آباد کے مقام پر اپنے تاریخی خطبہ میں اس مسلم ریاست کا تصور پیش کیا جو اب پاکستان کی صورت میں قائم ہے۔ جاوید منزل سے ملی ہوئی چھوٹی سی مسجد رقبہ کے اعتبار سے اب بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ البتہ اس کو دوبارہ دو منزلہ صورت میں تعمیر کیا گیا ہے۔ میور روڈ تعمیری لحاظ سے اب بھی تقریبا ویسا ہی نظر آیا جیسا کہ وہ ۴۰ سال پہلے تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ اب یہاں انسان زیادہ نظر آنے لگے ہیں۔ جب کہ ۱۹۴۵ء میں وہ ایک سنسان سڑک کی مانند تھی۔ ریلوے اسٹیشن بھی معمولی اضافہ کے ساتھ تقریباً ویسا ہی دیا ہی ہے جیسا کہ وہ ۱۹۴۵ء میں تھا۔ کوئی بڑی تبدیلی مجھے وہاں دکھائی نہیں دی۔ دوسرا سفر لاہور کے لئے میرا دوسرا سفر فیروز پور کے راستہ سے مئی۔ جون ۱۹۴۱ء میں ہوا۔ ۱۹۴۲ء میں میں نے جو سفر کیا وہ ایک ہی ملک کے ایک حصہ سے اس کے دوسرے حصہ میں جانا تھا۔ اس وقت کسی ’’سرحد‘‘ کا وجود نہ تھا جہاں چیکنگ کی ضرورت پیش آئے۔ مگر ۱۹۴۱ء میں تاریخ بدل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page