Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

دوسرا سفر

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

چکی تھی۔ اب میں دہلی سے لاہور کے لئے روانہ ہوا تو میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا رہا تھا۔ چنانچہ سرحد پر ہر دست چیکنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستانی چوکی پر نہ جاتے ہوئے کوئی خاص زحمت پیش آئی اور نہ آتے ہوتے۔ مگر پاکستانی چوکی پر ایسی سخت پریشانی پیش آئی کہ میں نے سوچا کہ میرے جیسے آدمی کو پاکستان جانا ہی نہیں چاہئے۔ واپسی میں پاکستانی چوکی پر متعین آدمی کا ظالمانہ رویہ اپنی آخری حد کو پہنچ گیا۔ میں جون کی تیز دھوپ میں کھلے میدان میں کھڑا ہوا تھا۔ خدا اور اسلام کا کوئی بھی حوالہ اس آدمی کے لئے بے اثر ثابت ہو رہا تھا۔ جو میری تمام کتابیں اور اوراق بکھیڑ کر میز کی دوسری طرف مجھے اس طرح فاتحانہ انداز میں دیکھ رہا تھا کہ میں کوئی مجرم ہوں۔ اس کا کھلا مطالبہ تھا کہ جو کچھ پیسہ تمہارے پاس ہے وہ سب ہمارے حوالے کرو۔ ورنہ ہم جانے نہیں دیں گے۔ میں بے بس کھڑا ہوا تھا کہ اچانک ایک تدبیر میرے ذہن میں آئی۔ جاتے ہوئے میں نے دیکھا تھا کہ پاکستان کی سمت میں ایک خیمہ لگا ہوا ہے جس میں ایک فوجی افسر ڈیوٹی پر رہتا ہے۔ جلتے ہوئے آفتاب میں اس سے کچھ بات چیت ہو گئی تھی۔ جب میں نے دیکھا کہ تفتیش کا آدمی مجھ کو چھوڑ نہیں رہا ہے تو میں نے کہا ” یہ میجر صاحب مجھ کو جانتے ہیں کہتے تو ان کو بلا دوں“ اس جملے نے جادو کا کام کیا اس کو سنتے ہی الفور آدمی کا رویہ بدل گیا۔ اس نے میرے بیگ سے ایک سادہ ڈائری نکالی اور کہا کہ جایئے۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا سے اتنا بھی نہیں ڈرتے جتنا وہ ایک فوجی افسر سے ڈرتے ہیں۔ لاہور پہنچ کر میں آٹو رکشا کے ذریعہ مولانا امین احسن اصلاحی کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ قریب پہنچ کر ڈرائیور نے کچھ لوگوں سے پوچھا ” امین احسن اصلاحی کا گھر کون سا ہے “ مگر لوگ سمجھ نہ سکے۔ کسی نے کہا ” امین احسن مودودی “ کسی نے کہا ” ابو الاعلیٰ اصلاحی “ لوگ نہ پوری طرح مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو جانتے تھے اور نہ پوری طرح مولانا امین احسن اصلاحی کو۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ جنرل یحییٰ خاں کی حکومت کے تحت ابھی حال میں جماعت اسلامی پاکستان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page