Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

دوسرا سفر

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

بات کرتے رہے۔ وہ اگر چہ نہایت کمزور اور مریض تھے، تاہم انھوں نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کافی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات سے پہلے مولانا مودودی کے رفیق خاص (غالباً رحمت الہی صاحب) نے کہا تھا کہ مولانا کی طبیعت بہت ناساز ہے۔ اس لئے ان سے کوئی اختلافی بات نہ چھیڑی جائے۔ وہ ملاقات کے وقت برابر میرے پاس بیٹھے رہے۔ جب میں باہر نکلا تو میں نے مذکورہ رفیق سے کہا کہ میں بعض امور پر بات کرنا چاہتا تھا مگر وہ نہ ہو سکی۔ انھوں نے دوبارہ وہی بات کہی کہ موجودہ حالت میں اختلافی امور پر بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ کافی اصرار کے بعد وہ اس پر راضی ہوئے کہ میں جو بات کرنا چاہتا ہوں اس کا خلاصہ پیشگی طور پر لکھ کر انہیں دے دوں۔ میں نے وہیں بیٹھ کر ایک کاغذ پر چند سطریئ لکھیں۔ اس تحریر کی نقل میرے پاس محفوظ نہیں ۔ مفہوم کے اعتبار سے وہ بات یہ تھی کہ ـــــــــ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ اس سے آپ نے قیاس کیا کہ پاکستان کے لئے مسلم لیگ نے جو مومنٹم پیدا کیا تھا اس کو آپ اپنی تحریک کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے پوری طرح اپنی جماعت کو اس رخ پر ڈال دیا۔ مگر آپ کا یہ اندازہ صحیح نہیں تاریخی اور عقلی طور پر ایسا ہونا نا ممکن ہے کہ کسی کی پیدا کردہ حرکت کو کوئی دوسرا شخص اپنے حق میں استعمال کر سکے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لئے آپ کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ الیکشن اور مطالبہ نظام اسلامی جیسی سیاست کو چھوڑ کر دوبارہ وہی اصلاحی اور تدریکی انداز اختیار کریں جس پر آپ تقسیم سے پہلے عامل تھے۔ میری یہ تحریر مولانا مودودی کے حوالے کر دی گئی ۔ اور میں یہ کہہ کر واپس آگیا کہ کل میں دوبارہ ملاقات کروں گا اور اس موضوع پر براہ راست گفتگو کروں گا۔ اگلے دن میں عصر کی نماز کے وقت اچہرہ (۵۔ اے ذمیل دار پارک) پہنچا۔ تو پچھلے دن کے برعکس مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا چہرہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ وہ سخت برہم نظر آتے تھے۔ میں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے رفیق خاص کے مشورہ پر عمل کیا اور مولانا کی ناسازی طبع کی بنا پر اختلافی مسئلہ پر گفتگو کئے بغیر واپس چلا آیا۔ عصر اور مغرب کی نمازیں میں نے ان کے ساتھ اچہرہ میں پڑھیں۔ ۱۹۷۱ میں جب میں ہندوستان سے پاکستان پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page