Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

تیسرا سفر لاہور کے لئے میرا تیسرا سفر مارچ ۱۹۸۵ء کے آخری ہفتہ میں ہوا۔ ۲۳ مارچ کو دہلی سے لاہور کے لئے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر ۷۳ سے روانہ ہوا۔ پاکستانی ہوائی کمپنی سے سفر کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ پاکستان ائیرویز کا سفر اکثر پہلوؤں سے دوسرے ہوائی جہازوں جیسا تھا۔ تاہم بعض پہلوؤں سے وہ میرے لئے نیا تجربہ تھا۔ اناونسر کے اعلانات میں السلام علیکم، انشا اللہ اور خدا حافظ جیسے کلمات سننے کو ملے۔خاتون اناونسر خالص کتابی اردو بول رہی تھی۔ اسی طرح ہوائی جہاز اور ہوائی اڈہ کے اندراجات میں انگریزی کے ساتھ اردو بھی ہر جگہ لکھی ہوئی نظر آئی۔ اپنے ہوائی سفر میں غالباً پہلی بار مسلمان ہو اباز کا نام سننے میں آیا۔ یہ کیپٹن فاروق تھے۔ انھوں نے ۶۰۰۰ میٹر کی بلندی پر جہاز کو اڑاتے ہوئے ۴۵ منٹ میں اس کو لاہور کے ہوائی اڈہ پر اتارا۔ واپسی میں ۲۸ مارچ کو جہاز کے کپتان مسٹر عبدالقادر تھے۔ لاہور سے دہلی تک پوری پرواز غیر معمولی طور پر ہموار تھی۔ حتیٰ کہ یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم کسی سواری میں چل رہے ہیں یا گھر کے اندر بیٹھے ہوتے ہیں۔ جہاز کے بیشتر مسافر مسلمان تھے۔ تاہم میرے قریب کی دو نشستوں پر ایک یوروپین جوڑا بیٹھا ہوا تھا۔ مسلمانوں کی عام حالت کے برعکس وہ لوگ اتنا آہستہ بول رہے تھے کہ بمشکل ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ واحد چیز جس سے وہ مجھے اپنے وجود کا احساس دلا رہے تھے وہ ان کے سگریٹ کا دھواں تھا۔ میں سگریٹ کے بارہ میں اتنا زیادہ حساس ہوں کہ ہوا میں اس کی ادنیٰ آمیزش بھی مجھے بے چین کر دیتی ہے۔ تاہم سفر پر نکلنے کے بعد اس سے بچنا ممکن نہیں۔ ”نان اسموکنگ زون“ میں نشست حاصل کرنا بھی اس مسئلہ کا حل نہیں۔ اس کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ آدمی برداشت کرے یا وہ سفر ہی نہ کرے۔ اُڑان کے دوران ہوائی جہاز کے اندر ناشتہ آیا تو عام قاعدہ کے خلاف اس میں صرف چمچہ تھا ”چھری کانٹا“ نہ تھا۔ اگر چہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ اسلامیت تھی یا کفایت شعاری۔ ۲۳ مارچ ۱۹۸۵ء کی سہ پہر کو میں پاکستان کے لئے روانہ ہوا تو آج کے دو واقعات کی یاد میرے ذہن میں گھوم رہی تھی۔ آج صبح فجر کی نماز میں نے نظام الدین کی اس مسجد میں پڑھی جس کو عام طور پر کالی مسجد کہا جاتا ہے۔ ایک تبلیغی اجتماع کی وجہ سے آج نمازیوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔ نماز کے بعد امام صاحب کھڑے ہوئے۔ انھوں نے مسجد کے لئے مالی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے یہ بتایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page