Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ یہ عظیم مسجد سات سو سال پہلے فیروز شاہ تغلق نے بنوائی تھی۔ انگریزوں کے زمانہ میں یہ محکمہ آرکیالوجی کے قبضہ میں چلی گئی۔ آزادی کے بعد ہم نے اس کی رہائی کی کوشش شروع کی ۔ اس سلسلہ میں گرفتاریاں ہوئیں۔ مقدمہ چلا۔ امام صاحب نے کہا کہ آپ تعجب کریں گے کہ مسجد کے اس مقدمہ میں ہمارے حق میں تین غیر مسلم اصحاب نے گواہی دی۔ ایک ہریجن، ایک بینا اور ایک برہمن۔ ان لوگوں نے عدالت میں جا کر یہ بیان دیا کہ ہم ۳۰ سال سے مسلمانوں کو یہاں نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس کی بنیاد پر عدالت نے یہ قدیم شاہی مسجد مسلمانوں کو واگذار کر دی۔ اس کے بعد کئی لاکھ روپے کے خرچ سے اس کی مرمت کرائی گئی اور اس کو اس شاندار صورت میں تبدیل کیا گیا جیسا کہ آپ آج اسے دیکھ رہے ہیں۔ فجر کی نماز پڑھ کر مکان واپس آیا تو آج کے اخبارات موجود تھے، ہندوستان ٹائمس (۲۳ مارچ ۱۹۸۵) میں مسٹر خشونت سنگھ کا کالم تھا۔ اس میں انھوں نے لندن میں سابق ہندوستانی ہائی کمشنر مسٹر سید محمد کی فروری ۱۹۸۵ میں وفات پر ایک لمبا نوٹ لکھا تھا ، اس نوٹ میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ پیرا گراف بھی تھا: The conventional period of mourning prescribed for the dead in Muslim families is forty days. In the case of Valiaveetil Abdul Aziz Syed Moham- mad who died last month it will last much longer. Besides his comely wife Thangam, their children and friends amongst whom I count myself, the period of mourning will be our lifetimes. He was a good, able and honest man. Such men are rare. Their going leaves a void in many hearts that remains forever unfilled. میں ہندوستان سے پاکستان جا رہا تھا اور میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ جس ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتنے گہرے تعلقات تھے کہ بے شمار نا خوشگوار یوں کے باوجود آج بھی وہ اتنی گہرائی کے ساتھ باقی ہیں ، اس ملک کو دو قومی بنیاد پر تقسیم کرایا گیا تو آخر کس لئے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا تھا جس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی تھی ۔ اس تاریخی نسبت کی بنا پر پاکستان کی نئی منتخب پارلی منٹ (مجلس شوری) کا افتتاحی اجلاس ۲۳ مارچ ۱۹۸۵ کو رکھا گیا۔ ۲۳ مارچ کی شام کو جب میں لاہور پہنچا تو ٹیلیویژن پر جنرل محمد ضیاء الحق کی تقریر آ رہی تھی۔ صدر پاکستان نے اپنی افتتاحی تقریر کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعر سے کیا : تقدیر کے پابند نباتات و جمادات مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page