Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے جس میں ۳۲۴ ممبران شریک تھے اور جو پاکستان کے نوکر اور باشندوں کے نمائندہ تھے کہا کہ جوں ہی نئی حکومت نے امور مملکت پر اپنی گرفت مستحکم کرلی تو مارشل لا کی چھتری فوری طور پر لپیٹ دی جائے گی۔ کیوں کہ ارکان اسمبلی اور سینٹ کی شکل میں اتنے سارے مسیحا اکٹھا ہوگئے ہیں تو یقیناً مریض بہت جلد صحت یاب ہو جائے گا اور مارشل لا کی کڑوی گولی کو ترک کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ نفاذِ اسلام کی رفتار کو تیز کرنا ، اور عام آدمی کے روزمرہ کے مسائل ارکانِ شورلی کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ عوام کی توقعات پر پوری اتریں گی اور قوم کو اتحاد، استحکام اور خوش حالی کی طرف لے جائیں گے۔ اس تقریر کا ایک دلچسپ حصہ یہ تھا کہ "صدر ضیاء الحق نے پارلی منٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اس پر غور کرے کہ بیشتر ارکان اسمبلی قانونی حد سے کہیں زیادہ خرچ کر کے ایوان میں پہنچے ہیں“۔ (نوائے وقت لاہور ، ۲۴ مارچ ۱۹۸۵) پاکستان میں مارچ ۱۹۸۵ میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مارشل لا حکومت کے تحت الیکشن کمیشن نے یہ ہدایت کیا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو ۲۵ ہزار رو پے اور قومی اسمبلی کے امیدواروں کو ۴۰ ہزار روپے تک انتخابی مہم پر صرف کرنے کی اجازت ہوگی ( جنگ ۹ فروری ۸۵) مگر عملاً جو ہوا وہ یہ تھا کہ مفسرین کے اندازے کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدوار نے اوسطاً دو لاکھ سے پانچ لاکھ روپے انتخابی مہم پر صرف کئے ۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے امیدوار نے اوسطاً ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے انتخابی مہم پر صرف کیا ( امروز ۳ مارچ ۱۹۸۵) ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے چار ہزار امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ اور انتخابی مہم پر مجموعی اعتبار سے چالیس کروڑ روپے خرچ کئے ۔ اخبار حریت (۹ فروری ۱۹۸۵) کی ایک خبر میں بتایا گیا کہ کراچی کے حلقہ نمبر ۱۸۹ میں قومی اسمبلی کے ایک مضبوط امیدوار کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ امیدواری سے دست بردار ہو جائیں تو انھیں پندرہ لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔ پاکستان کے الیکشن کے دلچسپ پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ "دین دار " افراد نے آپس میں سخت مقابلہ کیا جس کی وجہ سے دین پسند ووٹ بٹ کر ان کی طاقت کمزور ہوگئی ۔ مثال کے طور پر کراچی کے حلقہ نمبر ۱۹ میں محمود اعظم فاروقی اور شاہ بلغ الدین کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ اسی طرح لاہور میں مولانا ابو الکانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page