Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے ایک سوال کے جواب میں ایک صاحب نے کہا کہ اقبال نے نہ صرف پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ بلکہ ان کی شاعری نے بالواسطہ طور پر اس کا ذہن بنایا۔ ایک انگریزی اخبار میں ایک اشتہار دیکھا۔ اس میں تین تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ سب سے اوپر علامہ اقبال کی تصویر۔ اس کے نیچے مسٹر جناح کی۔ کے نیچے لیاقت علی خاں کی۔ تینوں تصویروں کے سامنے بالترتیب یہ الفاظ لکھے ہوتے تھے: He thought He fought He Sacrificed میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ پاکستان میں اسلام کی کون سی خصوصیت نسبتاً زیادہ زندہ ہے۔ انھوں نے فوراً کہا ”عید میلاد النبی “ ہر سال یہاں کے مسلمان اتنی دھوم سے اور ایسے عجیب عجیب طریقے سے میلاد النبی کا جشن مناتے ہیں جس کو صرف دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ جشن اور دھوم اور ہنگاموں والا اسلام آج دنیا بھر کے مسلمانوں پر اتنا چھایا ہوا ہے کہ وہ خاموشی والا اسلام جانتے ہی نہیں۔ ۲۵ مارچ کو مولانا مظفر حسین ندوی مظفر آبادی (۶۳ سال ) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ واقعات سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کئی برس تک دہلی میں کا شف العلوم میں مقیم رہے ہیں۔ ۱۹۴۲ میں وہ دیو بند گئے۔ وہاں وہ مولانا حسین احمد مدنی کے درس حدیث میں شریک ہوئے۔ بخاری کا درس ہور ہا تھا ۔ درس ختم ہواتو ایک طالب علم نے سوال کیا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت بنائی ہے۔ اس جماعت کا مقصد اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ آپ کی رائے اس جماعت کے بارہ میں کیا ہے۔ مولانا مدنی نے جواب دیا: کانگریس اور جمعیۃ علماء ہند کو چھوڑ کر جو کوئی بھی جماعت ہندوستان میں بنے گی وہ اس ملک میں انگریزوں کے قدم مضبوط کرنے والی ثابت ہوگی۔ میں نے مولانا مظفر حسین ندوی سے پوچھا کہ اس جملہ سے مولانا مدنی کا مقصد کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس سے جو بات سمجھی وہ یہ تھی کہ دوسری بنیادوں پر جماعت بنانے سے مسلمانوں کی توجہ بٹ جائے گی اور انگریزوں کے خلاف جو سیاسی جد و جہد جاری ہے وہ کمزور پڑ جائے گی۔ پاکستان میں اگرچہ مارشل لا نافذ ہے۔ مگر یہاں کا مارشل لا دوسرے ملکوں کے مارشل لا سے کافی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page