تیسرا سفر
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
مختلف نظر آتا ہے ۔ مارشل لا کے باوجود لوگوں میں کوئی خوف دہر اس نہیں ۔ مجلسوں اور اخباروں میں کھلے عام ہر طرح کے تبصرے ہوتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر بولتے وقت (جوبہاں کا آزاد اخبار سمجھا جاتا ہے) اس کی اشاعت ۲۵ مارچ کی پہلی سرخی یہ تھی : سول حکومت اور مارشل لا ایک ساتھ نہیں چل سکتے اندر کے صفحے میں ایڈیٹوریل کا عنوان تھا ۔ " نئے دور کا آغاز ، جمہوریت یا مارشل لائی جمہوریت " اخبارات میں صدر ضیاء الحق سے زیادہ نمایاں تصویریں عورتوں اور کھلاڑیوں کی نظر آئیں ۔ پاکستان میں ایک عجیب طبقہ ابھر رہا ہے جس کا نام ہے " نوجوان شاعرات " ایک خاتون کالم نگار نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ پاکستان کی حساس طبع خواتین میں روز بروز زر شا عری کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ خواتین کی اکثریت جو شاعری سے اپنا دل بہلانے کا کام لیتی ہے ، چند غزلیں یا نظمیں لکھنے کے بعد ان کو کتابی شکل میں چھپوانے میں بہت جلد بازی کرتی ہے " مولاناعبدالغفار حسن صاحب فیصل آباد کی جامعہ تعلیمات میں حدیث کے استاذ ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس مدرسہ میں منطق کا جزبہ بہت کم رکھا ہے ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایک عالم کا قول نقل کیا کہ طالب علم اگر ذکی ہے تو اس کو منطق کی ضرورت نہیں ۔ اگر وہ عہنی ہے تو وہ منطق کو سمجھے گا نہیں ۔ دوسرے اکثر شہروں کی طرح لاہور بھی دو لاہور کا نام ہے ۔ ایک قدیم لاہور ۔ یہاں تنگ سڑکیں پرانے مکانات ، ٹریفک کی بھیڑ کا وہی منظر ہے جس کی مثال پرانی دہلی میں نظر آتی ہے ۔ دوسرا نیا لاہور ۔ یہاں چوڑی سڑکیں ہیں۔ سرسبز پارک ہیں۔ جدید وضع کے کھلے ہوئے مکانات پھیلے ہوتے ہیں۔ کوئی شخص پرانے لاہور میں آئے اور یہیں سے واپس چلا جائے تو وہ یہ تاثر لے گا کہ لاہور نے پچھلے سو سال کے اندر کوئی خاص ترقی نہیں کی لیکن اگر کوئی نئے لاہور کو دیکھے تو وہ یہ یاد لے کہ یہاں سے لوٹے گا کہ لاہور جدید دنیا کا ایک اعلی ترقی یافتہ شہر ہے ۔ مشاہدہ کے فرق سے رائے کس طرح بدل جاتی ہیں ۔ آزاد ہندوستان سیکولر زم کے نام پر وجود میں آیا ۔ چنانچہ یہاں کے لیڈر ہمیشہ سیکولر زم کی بات کرتے ہیں خواہ وہ سیکولر زم سے بالکل دور ہوں ۔ یہی حال پاکستان کا ایک اور شکل میں ہوا ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں ہر کام اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے ۔ سوشلزم کے حامی اس کو اسلامی سوشلزم کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ عورتوں کو گھر سے نکلنے کی تحریک بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader