Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

بیان پڑھا تھا جس کی سرخی یہ تھی: جماعت اسلامی پیش کش ہونے پر بھی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔ میں نے میاں طفیل محمد صاحب سے اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ لوگوں نے ایسا فیصلہ کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہم نے تجربہ کر کے دیکھ لیا۔ موجودہ حالات میں شرکت حکومت کا کوئی فائدہ نہیں۔ جماعت اسلامی نے پاکستان کی مرکزی اسمبلی کے لئے ۶۱ امیدوار کھڑے کئے تھے۔ ان میں رکن اور متفق کو ملا کر صرف آٹھ کا کامیاب ہوئے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ حضرات اپنی انتخابی شکست کا ذمہ دار دھاندلی کو بتاتے تھے۔ اس بار خود آپ کی پسندیدہ حکومت نے الیکشن کرایا ہے اور آپ کو الیکشن لڑنے کا سب سے زیادہ موقع ملا ہے پھر آپ کو شکست کیوں ہوئی۔ میاں طفیل محمد نے بڑا عجیب جواب دیا۔ انھوں نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو موجودہ الیکشن میں شکست ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی پر فخر نفسیات نے انھیں اس عجیب و غریب خوش قسمتی سے ہم کنار کیا ہے کہ وہ اپنی شکست کو بھی اپنی فتح کے خانہ میں ڈال سکیں۔ کچھ لوگ سندھ سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ میری کتابوں کا سندھی زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ میں تیزی سے کمیونزم کا سیلاب آرہا ہے۔ ان کو ولاڈلا پنجابیوں سے بیزاری ہوئی اور اس کے بعد وہ اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ پنجاب سے بیزاری کی ایک مثال انھوں نے یہ دی کی کہ پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل اییرویز) کو وہ پنجاب انٹرنیشنل اییرویز کہتے ہیں۔ کمیونزم اور الحاد کی کاٹ کے لئے وہ میری کتابوں کو سندھی زبان میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے اندازہ کے مطابق یہ مسئلہ عقیدہ کا نہیں بلکہ مفادات کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مختلف اسباب سے وہ پنجابیوں سے پیچھے ہو گئے۔ فوائد کی تقسیم میں انھیں کم حصہ ملا اور پنجابیوں کو زیادہ۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر رد عمل پیدا ہوا۔ اپنے رد عمل کے اظہار کے لئے انھیں اسلام کا نعرہ زیادہ مفید مطلب نظر نہیں آیا۔ چنانچہ کمیونزم کو اپنے لئے زیادہ مفید مطلب سمجھ کر انھوں نے کمیونزم کا نعرہ اختیار کر لیا۔ انھوں نے میرے اس نقطہ نظر کی تصدیق کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page