Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

پارلیمنٹ کے اجلاس میں موجود ہوں تو وزیر اعظم محمد خان جونیجو اس بات پر آمادہ نہ ہوں گے کہ وہ اپنے روحانی پیشوا سے بلند مقام پر بیٹھیں ۔ پیر پگاڑا کے لاکھوں مریدوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے پیر صاحب کی موجودگی میں کوئی بھی شخص اس عزت کا مستحق نہیں کہ وہ ان سے اونچی نشست پر بیٹھے ۔ اس قسم کا ایک واقعہ سابق صدر ایوب خاں کے ساتھ سانگھڑ (سندھ) کے ایک استقبالیہ میں پیش آچکا ہے۔ صدر ایوب خاں اسٹیج پر پیر پگاڑا سے تقریباً دو پانچ اور یہ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب پیر پگاڑا کے مریدوں کو معلوم ہوا تو وہ ہزاروں کی تعداد میں کھڑے ہو گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ بعد کو جب صدر ایوب خاں کو صورت حال کا علم ہوا تو وہ فوری طور پر مریدوں کے جذبات کے احترام میں اپنی کرسی سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد مریدین خوش ہو گئے۔ انہوں نے ایوب خاں زندہ باد کے نعرے لگائے۔ وزیر اعظم جونیجو کی اہلیہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ پردہ میں رہتی ہیں۔ نوائے وقت (۲۶ مارچ) کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے اسلام آباد میں ہونے والی سرکاری رہائش گاہ کا معائنہ کیا۔ وزیر اعظم نے تزئین و آرائش میں کچھ تبدیلیوں کے احکام بھی جاری کئے ۔ بالخصوص نماز اور تلاوت قرآن پاک کے لئے ایک جگہ مخصوص کرنے کی ہدایت کی۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۵ کو جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز ”منصورہ“ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ مجموعی طور پر بارہ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے ۔ وسیع چہار دیواری کے اندر مسجد، اسکول، اسلامک ریسرچ سنٹر، اسپتال لائبریری، دار الاشاعت، تنظیمی دفاتر، رہائش گاہ وغیرہ بنی ہوئی ہیں ۔ درخت اور سبزہ بھی کافی نظر آئے۔ تاہم انتظام کے اعتبار سے وہ عام اداروں سے بہتر محسوس نہیں ہوا۔ جناب نعیم صدیقی صاحب اور دوسرے صاحبان سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ نعیم صدیقی صاحب (۶۹ سال) سے میں نے کہا کہ اپنی زندگی کی کوئی خاص دریافت بتائیے ۔ انھوں نے جو بات بتائی وہ میں نے اسی وقت ان سے کاغذ پر لکھوالی۔ موصوف کی دریافت ان کے الفاظ میں یہ تھی : میرے نزدیک جو ہر دین یہ ہے ــــ دل پاک ، دیدہ پاک ، دہن پاک جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ نوائے وقت (۲۴ مارچ ۱۹۸۵) میں میں نے سینٹ کے رکن اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل قاضی حسین احمد صاحب کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page