تیسرا سفر
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
کر کے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ تبرکات کس طرح مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے۔ یہ تبرکات اپنے آخری مرحلہ میں انگریزی حکومت کی طرف سے انجمن اسلام لاہور کو دئے گئے۔ مسجد کے ایک حصہ میں قرآن کا ایک خاص نسخہ نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ یہ سنہرے تاروں سے لکھا گیا ہے۔ عطا محمد مزارات پر چڑھائی جانے والی چادریں تیار کرتے تھے۔ ان کا مکان آتش بازی کے ایک کارخانہ کے اوپر تھا۔ کارخانہ میں آگ لگنے سے ان کا مکان اور بیوی بچے سب ہلاک ہوگئے ۔ اس کے بعد روحانی سکون حاصل کرنے کے لئے عطا محمد کے ذہن میں آیا کہ وہ سنہری تاروں سے قرآن پاک تیار کریں۔ مختلف لوگوں کے تعاون سے انھوں نے دس سال میں یہ قرآن تیار کیا۔ یہ قرآن ۱۳۲۸ صفحات پر ہے۔ اس کی ۳۰ موٹی موٹی جلدیں ہیں۔ وہ ۱۹۷۷ء میں اس مسجد میں رکھا گیا۔ مسجد سے متصل سکول کی ایک بڑی عمارت ہے۔ اس کے اندر مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مقبرہ اور گور دوارہ ہے۔ ہم اس کے اندر داخل ہوئے اور درشن سنگھ سے ملے جو یہاں "سیوا دار" کی حیثیت سے مقیم ہیں۔ جب ہم ان کے کمرہ میں داخل ہوئے تو وہ ٹیلیفون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے۔ اردو زبان کی ایک بڑی کمی یہ تھی کہ اس کا ٹائپ نہیں تھا۔ مگر دور جدید میں کمپیوٹر کی ایجاد نے اس کو حل کر دیا۔ برطانیہ کی ایک کمپنی نے کمپیوٹر کے ذریعہ اردو ٹائپ سٹنگ کی مشین ایجاد کی ہے۔ یہ مشین کافی مہنگی ہونے کی وجہ سے ابھی عام نہ ہو سکی۔ پاکستان میں کچھ اخبارات (مثلاً جنگ، نوائے وقت) اسی مشین کے ذریعہ چھپتے ہیں۔ تاہم اس کے حروف میں وہ خوبصورتی نہیں جو ہاتھ کی کتابت میں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ مشین کی خرابی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی کے ذمہ داروں نے حروف تیار کرنے کا کام آرٹسٹ سے کرایا جب کہ یہ کام انھیں خطاط سے کرانا چاہئے تھا۔ انگریزی میں یہ کام چونکہ آرٹسٹ ہی انجام دیتے ہیں اس لئے انھوں نے اردو کے لئے بھی آرٹسٹ کا انتخاب کیا۔ معلوم ہوا کہ کمپنی کے لوگ دوبارہ خطاط کے ذریعہ نئے حروف تیار کرانا چاہتے ہیں۔ لاہور میں ایک میواتی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میواتی قوم کی نصف تعداد پاکستان میں ہے اور نصف تعداد ہندوستان میں۔ ان کو حکومت پاکستان سے شکایت تھی۔ انھوں نے کہا کہ میواتی لوگ جب ۱۹۷۴ء میں پاکستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader