Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

میں داخل ہوئے تو انہوں نے یہاں کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی پوری آبادی کو ایک جگہ بسایا جائے۔ مگر یہ مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ چنانچہ یہ تمام میواتی مختلف علاقوں میں منتشر ہیں۔ میوات کے لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں، وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حکومت نے ایسا کیوں کیا۔ اصل یہ ہے کہ میواتی قوم نے اپنے آپ کو ایک لڑاکا قوم کی حیثیت سے متعارف کیا ہے۔ انہوں نے دہلی کے مسلم سلاطین کی ماتحتی قبول نہیں کی۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں بھی وہ برابر بغاوت کرتے رہے۔ ایسی حالت میں حکومت پاکستان کا یہ سوچنا بالکل درست تھا کہ ان کو مجموعہ کی شکل میں بسانا ٹھیک نہیں ہے۔ ورنہ وہ یہاں بھی شورش برپا کرتے رہیں گے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کے بارہ میں حضرت مسیح نے فرمایا کہ ــــ انہیں دوسرے کی آنکھ کا تنکا دکھائی دیتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ حکیم عبدالرحیم اشرف صاحب (فیصل آباد) کا ٹیلی فون آیا کہ وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے فیصل آباد کے سفر سے معذوری ظاہر کی۔ چنانچہ وہ خود لاہور تشریف لائے۔ ان سے موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اس مجلس میں روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر جناب مصطفی صادق صاحب اور بعض دوسرے حضرات بھی موجود تھے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ میری رائے اس سے بالکل مختلف ہے جو عام طور پر آپ نے سنا ہوگا۔ لوگ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق، ہمیشہ ظلم و ستم کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ مگر یہ یا تو تحریف (distortion) ہوتی ہے یا تعمیم (generalization) یعنی یا تو کسی واقعہ کو بگاڑ کر غلط شکل میں پیش کیا جاتا ہے یا کسی اتفاقی واقعہ کو عمومی حالت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے اپنا نقطہ نظر نہایت تفصیل کے ساتھ ایک کتاب میں بیان کیا ہے جس کا نام ہے" حل یہاں ہے"۔ پاکستان کے لئے روانگی سے چند دن پہلے میں نے ایک اخبار میں ایک بیان پڑھا تھا۔ یہ پاکستان کی سابق مجلس شوریٰ کی خاتون رکن بشریٰ رحمان کا بیان تھا۔ اس بیان میں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا : ہندوستان کے مسلمان ثقافتی شدی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page