Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی عالمی مذاہب کی اسمبلی رکھتا تھا۔ ہندوستان سے اس اسمبلی میں کئی درجن افراد شریک ہوئے جو ہندوازم، جین ازم، بدھ ازم، سکھ ازم وغیرہ مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ہندوستان سے شریک ہونے والے دوسرے مسلمان ڈاکٹر سید اوصاف علی (ڈائریکٹر اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد نئی دہلی) تھے۔ وہ اسمبلی کی پلاننگ کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ اس اعتبار سے غالباً یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی کہ اس میں دنیا بھر کے تمام چھوٹے بڑے مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ ۱۳ نومبر ۱۹۸۰ کو ہم دہلی ایئر پورٹ میں داخل ہوئے اور اگلے دن ۱۴ نومبر کو آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ ایئر پورٹ پر اتنا زیادہ وقت کیسے لگا۔ اس کا سبب ہوائی جہاز کا وقت تھا۔ دہلی سے ہوائی جہاز کی روانگی کا وقت رات کو بارہ بج کر ۵۴ منٹ پر تھا۔ انگریزی کیلنڈر کے مطابق ۱۲ بجے رات کو ایک تاریخ ختم ہوتی ہے اور ۱۲ بجے رات کے فوراً بعد اگلی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ ہوائی اڈہ پر اگرچہ ہم صرف تھوڑی دیر رہے۔ مگر اسی تھوڑی دیر میں کیلنڈر کی ایک پوری تاریخ بدل چکی تھی ۔ زندگی ایک عجیب سفر ہے۔ اس میں کبھی ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک پہنچنے کے لیے ۲۴ گھنٹے“ لگ جاتے ہیں۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کا سفر صرف چند لمحوں میں طے ہو جاتا ہے۔ ہندوستان سے امریکہ کا سفر بہت لمبا سفر ہے۔ ہوائی جہاز سے تقریباً ۲۰ گھنٹے۔ مزید یہ کہ ہوائی حادثات کی تاریخ میں ۱۹۸۵ سب سے زیادہ برا سال رہا ہے۔ اس سال اگست ۱۹۸۵ تک کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۲ ہوائی حادثات ہوئے۔ ان میں مجموعی طور پر ۱۶۹۸ مسافر ہلاک ہوئے۔ پچھلے ۲۰ سال کے اندر ہوائی حادثات میں مرنے والوں کا اوسط سالانہ ۹۰۰ تھا۔ اس لحاظ سے ۱۹۸۵ کا اوسط تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ ۲۳ جون ۱۹۸۵ کو اٹلانٹک کے اوپر ایئر انڈیا کا حادثہ خاص اسی راستہ میں ہوا تھا جس میں ۳۲۹ آدمی ہلاک ہو گئے۔ اگر چہ عام حادثات میں لوگوں کو کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ مگر بیگ پروٹوکول کے مطابق ہوائی حادثہ میں ہلاک ہونے والے ہر مسافر کے پس ماندگان کو ۲۰ ہزار ڈالر دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان حالات میں جب میں دہلی میں ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۰۲ پر بیٹھا تو ایسا محسوس ہوا گویا میں ایک پر خطر سفر پر روانہ ہو رہا ہوں۔ دل میں تھوڑی دیر کے لیے دہشت کا احساس ہوا۔ پھر مجھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page