امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
جان شیڈ (John Shedd) کا قول یاد آیا کہ جہاز بند رگاہ پر محفوظ ہوتا ہے مگر جہاز اس لیے نہیں کہ وہ بندرگاہ پر کھڑا رہے : A ship in harbour is safe, but that is not what ships are for. یہ جہاز بوئنگ ۷۴۷ تھا۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا جہاز ہوتا ہے۔ اس کے اندر آپ ایک سرے پر کھڑے ہوں تو آپ دوسرے سرے کے مسافر کو پہچان نہیں سکتے۔ ایسے ایک جہاز کی قیمت تقریباً پچاس کروڑ روپے ہوتی ہے ۔ اس قسم کے جہاز زیادہ تر امریکہ میں بنائے جاتے ہیں ۔ جہاز سازی کی صنعت میں امریکہ آج سب سے آگے ہے۔ کسی جہاز پر خواہ ایئر انڈیا لکھا ہوا ہو یا ایر پاکستان، سعودی ایر لکھا ہوا ہو یا ایرانی ایر بہر حال وہ امریکی کارخانہ کا بنا ہوا ہو گا۔ ہماری پہلی منزل بمبئی تھی ۔ جاتے ہوئے یہ جہاز دہلی، بمبئی ۔ لندن ۔ نیو یارک کے راستے سے جاتا ہے اور واپسی میں نیو یارک لندن۔ دہلی واپس آتا ہے۔ ہمارا یہ سفر ایک لحاظ سے " بمبئی " سے " بمبئی " کے لیے تھا ۔ ہندوستان میں جو حیثیت بمبئی کی ہے ۔ امریکہ کے اعتبار سے وہی حیثیت وہاں نیویارک کی ہے۔ نیو یارک گویا زیادہ بڑا بمبئی ہے۔ چند سو سال پہلے نیو یارک اور بمبئی دونوں یکساں طور پر سمندر کے کنارے کی دو معمولی بستیاں تھیں ۔ مگر آج دونوں میں ترقی کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ بمبئی اگر ایک ملک کا اقتصادی مرکز ہے تو نیو یارک ساری دنیا کا اقتصادی مرکز۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمی ایک ساتھ سفر شروع کرتے ہیں ۔ مگر بعد کے حالات ایک کو آگے کر دیتے ہیں اور دوسرے کو پیچھے ۔ ۱۴ نومبر کی صبح کو ہوائی جہاز دہلی کے ہوائی اڈے پر اترا ۔ دہلی کا ہوائی اڈہ بہت منظم اور شاندار ہے۔ سب سے پہلے ہم کو مسجد کی تلاش ہوئی۔ اوپر کی منزل پر پہنچے تو وہاں ایک کنارے چھوٹی سی خوبصورت مسجد موجود تھی ۔ اسی کے ساتھ نہایت صاف ستھرا حمام بھی تھا ۔ ہم نے وضو کر کے سکون کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی ۔ مسجد سے باہر نکلے تو خیال آیا کہ دہلی اور شارجہ میں کچھ لوگوں کو ٹیلیفون کیا جائے ۔ دہلی میں مقامی ٹیلیفون کرنے کی کوئی قیمت نہیں۔ مقامی کال یہاں فری ہے ۔ چنانچہ ہم نے دہلی کے ایک صاحب (شیخ علی الہاشمی) کا نمبر ملایا۔ نمبر فوراً مل گیا اور بغیر کسی اختلال کے گفتگو ہوئی ۔ اس کے بعد ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader