Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

دکانوں پر پکٹنگ کرے ۔ یہ لوگ شراب کے خلاف مذہبی اور اخلاقی دلائل استعمال کرتے تھے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس عمل کا کوئی بھی تعلق شراب کے مذہبی مسئلہ سے نہ تھا ۔ اس کا مقصد صرف انگریزی حکومت کو لوگوں کی نظروں میں برا دکھانا اور اس کے خلاف عوامی نفرت پیدا کرنا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی حکومت کے خاتمہ کے بعد اگر چہ ملک میں شراب کا رواج پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے مگر اب کوئی اس کے خلاف پکٹنگ کرنے والا نہیں۔ اس طرح کے سیاسی ذہن کے تحت جو تحریک چلائی جائے وہ صرف سماج کی برائیوں میں اضافہ پر ختم ہوتی ہے ۔ خواہ اس کو کتنے ہی خوبصورت عنوان کے تحت شروع کیا گیا ہو ۔ دبئی سے سات گھنٹہ مسلسل پرواز کرنے کے بعد ہمارا جہاز لندن پہنچا۔ یہ سفر بہت زیادہ اکتا دینے والا تھا ۔ میں نے سوچا کہ اگر ایک ہزار سال پہلے کوئی شخص کہتا کہ وہ عرب سے انگلستان تک کا سفر سات گھنٹہ میں کرا دے گا تو لوگ اس کو عجوبہ سمجھتے اور جب وہ واقعۂ لوگوں کو سواری میں بٹھا کر سات گھنٹہ میں عرب سے انگلستان پہنچا دیتا تو لوگوں کو یہ مدت اتنی کم معلوم ہوتی کہ وہ کہتے کہ ابھی ہم سواری پر بیٹھے تھے اور ابھی اترگئے۔ مگر آج تیز رفتار سواری کے دور میں سات گھنٹہ بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے ۔ انسان اکثر اضافی اصطلاحوں میں سوچتا ہے ۔ مگر اکثر وہ غلطی سے سمجھ لیتا ہے کہ وہ حقیقی اصطلاحوں میں سوچ رہا ہے ۔ لندن ایر پورٹ پر ایک گھنٹہ گزرا ۔ یہاں کا ہوائی اڈہ بہت بڑا ہے ۔ ہوائی اڈہ پر اندراجات انگریزی کے بعد عربی زبان میں نظر آئے ۔ ہوائی اڈہ پر ایسا معلوم ہوا گویا یہاں انگریزی کے بعد دوسری زبان عربی ہے۔ یہاں ٹیلی فون کا نظام نہایت معیاری ہے ۔ آپ ایر پورٹ پر لگی ہوئی مشین میں رقم ڈال کر ملک کے کسی بھی حصہ میں براہ راست ٹیلی فون کر سکتے ہیں ۔ ہمارے سامنے ایک صاحب نے اسی طرح برمنگھم سے بات کی ۔ لندن اور دہلی کے درمیان ڈائرکٹ ڈائلنگ ہے ۔ چنانچہ ہم نے ایر پورٹ پر ٹیلی فون کر کے دہلی سے بات کی ۔ صرف ایک بار ڈائل کرنے میں لائن مل گئی ۔ آواز اتنی صاف تھی گویا کہ بالکل قریب سے بات ہو رہی ہو، اس کے مقابلہ میں دہلی میں ٹیلی فون کا حال یہ ہے کہ ایک مرتبہ انگریزی اخبار میں لطیفہ شائع ہوا تھا ۔ ایک شخص نے دہلی فون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا " دہلی کے نصف باشندے کنکشن کا انتظار کر رہے ہیں اور بقیہ نصف ڈائل ٹون کا" :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page