امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
کانفرنس تھی ، کانفرنس کی گائیڈ بک میں یہ الفاظ بھی لکھے ہوئے تھے : Alcoholic beverages will not be provided یعنی کانفرنس کے ذمہ داروں کی طرف سے شرکا کے لیے شراب نہیں مہیا کی جائے گی۔ ۱۵۰ء تک امریکہ ایک بالکل نا قابلِ ذکر علاقہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس وقت تک امریکہنوں کے پاس پہیہ دار گاڑیاں بھی نہیں تھیں ۔ ۱۱ اکتوبر ۱۴۹۲ء میں کرسٹوفرکولمبس کی کشتی اتفاقاً امریکہ کے ساحل پر پہونچی ۔ کولمبس ایک اسپینی باشندہ تھا اور ایک عرب ملاح کے ساتھ اٹلانٹک میں سفر کر رہا تھا کہ وہ امریکہ کی سر زمین میں پہونچ گیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یورپی باشندے امریکہ آنا شروع ہوئے ۱۵۶۵ء میں اسپینیوں نے شمالی امریکہ میں پہلا قلعہ بنایا۔ اس وقت جو لوگ یورپ سے امریکہ آئے ان کو قدیم امریکی باشندوں نے آسمانی لوگ (Men from the sky) کا نام دیا۔ ۱۶۰۷ میں برطانی لوگ اٹلانٹک کو پار کر کے امریکہ پہونچے ۔ انھوں نے ورجینیا میں اپنی پہلی آبادی قائم کی۔ اس وقت امریکہ کی زمین اتنی کم قیمت رکھتی تھی کہ منہٹن کے باشندوں نے صرف ۲۴ ڈالر میں منہاتن کا پورا جزیرہ ڈچ کمپنی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ فرانسیسیوں نے یہاں کے باشندوں کو عیسائی بنانے کی مہم شروع کی۔ ابتدا میں امریکہ مختلف یورپی قوموں کی شکار گاہ رہا۔ جس میں برطانی قوم کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اگست ۱۷۷۶ ء کی جنگ کے بعد برطانیہ نے نیو یارک پر قبضہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد مزید علاقے اس کے قبضہ میں آتے رہے ۔ آزادی کے بعد ۱۷۸۹ ء میں امریکہ کا پہلا دستور بنا۔ ۱۷۹۰ ء میں پہلی بار امریکہ کی مردم شماری ہوئی اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کل آبادی تقریباً چار ملین تھی ۔ امریکہ قدرتی ذخیروں سے مالا مال ہے۔ چنانچہ اس کی دریافت کے بعد مختلف ملکوں کے لوگ کثرت سے آکر امریکہ میں بسنے لگے۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۰ء تک اس کی آبادی ۱۰۶ ملین تک پہونچ گئی۔ ان میں ۸۵ ملین صرف انگریز تھے ۔ یہ امریکہ کے لیے ایک ایڈوانٹیج بن گیا۔ کیوں کہ اس طرح سے جو افراد آئے وہ سب حوصلہ مند اور اعلیٰ صلاحیت کے لوگ تھے ۔ چنانچہ امریکہ نے تیزی سے ترقی شروع کی ۔ ۱۹۱۴ء کی جنگِ عظیم میں امریکہ نے عالمی صنعتی طاقت کی حیثیت حاصل کر لی۔ اور دوسری جنگِ عظیم نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنا دیا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader