Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

میں تلاش کرتا ہے جب کہ اسلام کے نزدیک انسان کے اندر اخلاقی احساس پیدا کرنے کا ذریعہ آخرت کی جواب دہی کا یقین ہے۔ بعض مذاہب کے نزدیک انسانی شخصیت اس طرح بنتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کو سچا سمجھے جب کہ اسلام کے نزدیک سچائی صرف ایک ہے اور اسی ایک سچائی کو دریافت کرکے وہ اپنی ذات کو ارتقار کی طرف لے جا سکتا ہے۔ بعض مذاہب یہ سمجھتے ہیں کہ فرد موت وحیات کے لمبے مراحل سے گزر کر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، جب کہ اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے اور یہاں کے عمل کی بنیاد پر آدمی موت کے بعد اپنا اچھا یا برا انجام پاتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں تحریف کی وجہ سے خدا کی بات کچہ سے کچہ ہو گئی۔ جب کہ اسلام میں خدا کی بات اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں محفوظ ہے۔ انسان پورے اعتماد کے ساتھ اسلام کو اختیار کر سکتا ہے جب کہ دوسرے مذاہب کو اختیار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی کتاب کے صحیح اور مستند ایڈیشن کی موجودگی میں اس کے ایسے نسخوں کو اپنے علم کا ماخذ بنایا جائے جس میں زمانہ کی دستبرد سے بے شمار غلطیاں ہو گئی ہوں۔ ۱۸ نومبر کو ہم لوگ قافلہ کی صورت میں نیو جرسی سے نیویارک کے لیے روانہ ہوتے۔ آج کا دن نیویارک کے اہم مقامات کو دیکھنے کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ ایک شخص جس نے نیویارک نہ دیکھا ہو اس کے ذہن میں نیویارک کی عظمت کا افسانوی تصور ہوتا ہے ــــ تاریخ کی سب سے اونچی عمارتوں کا شہر، جدید صنعتی تمدن کا سب سے بڑا مرکز، وغیرہ۔ مگر جب ہم نے نیویارک پہنچ کر اس کو دیکھا تو اس کی عظمت کا طلسم ٹوٹ گیا وہ اس سے کم نظر آیا جتنا وہ خیالی طور پر محسوس ہوتا تھا۔ نیویارک صرف نیویارک تھا۔ اس سے زیادہ اور کچہ نہیں۔ نیویارک میں ہم نے اقوام متحدہ (United Nations) کو زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھا جان ڈی راکفلر نے نیویارک میں سمندر کے کنارے سترہ ایکڑ کی قیمتی زمین اقوام متحدہ کے وقف کر دی۔ اس پر اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کی عمارتیں بنائی گئیں۔ سترہ ایکڑ کا یہ علاقہ ایک آزاد علاقہ ہے۔ یہ صرف اس کے سکریٹری جنرل کے حکم کے تابع ہے۔ اقوام متحدہ کی بلند و بالا عمارتوں میں گھومتے ہوئے ہم اس کے ایک ہال میں پہونچے۔ یہاں اس وقت ٹرسٹسی کونسل کا اجلاس ہورہا تھا۔ وسیع ہال میں نیچے اوپر کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ مگر مقرر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page