Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

اور دفتری کارکنوں کے سوا تقریباً سب خالی تھیں ، اسٹیج پر ایک مقرر تقریر کر رہا تھا جس کی ہلکی آواز خالی ہال میں گونج رہی تھی۔ وہاں سننے والے اتنے کم تھے کہ بے شمار کرسیوں کے درمیان انہیں تلاش کرنا پڑتا تھا کہ کچھ سننے والے ہیں بھی یا نہیں۔ اس کے بعد ہم اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ہال میں پہونچے جو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے خاص ہے۔ آج یہاں نمیبیا کے مسئلہ پر اجلاس ہو رہا تھا۔ ایک شخص اسٹیج پر بیٹھا ہوا انگریزی میں تقریر کر رہا تھا۔ جس کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ جارج شلز بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مگر یہاں بھی یہ حال تھا کہ جنرل اسمبلی کے ۱۹۰ ممبر ممالک کی تعداد کے بقدر بھی سامعین موجود نہ تھے۔ سننے والے اتنے کم تھے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی وسیع عمارتوں کے باہر ایک بہت بڑا اسٹیچو لگا ہوا ہے۔ یہ ایک طاقت ور آدمی ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار ہے اور دوسرے ہاتھ میں ہتھوڑا۔ وہ پوری طاقت سے بھاری ہتھوڑے کو تلوار پر مار رہا ہے۔ آرٹ کا یہ نمونہ سوویت روس نے 1959 میں اقوام متحدہ کو بطور عطیہ دیا تھا۔ اس پر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں : We shall beat our swords into plowshares ہم اپنی تلواروں کو توڑ کر ان کے ہل بنائیں گے۔ ۴ جون ۱۹۲۵ کو پچاس ملکوں نے مل کر اقوام متحدہ کو قائم کیا تھا۔ اب اس کے ممبر ملکوں کی تعداد ۱۴۰ ہو چکی ہے۔ ابتدائی عہد نامہ کے مطابق اس کا مقصد یہ تھا کہ دوسری جنگِ عظیم سے برباد شدہ دنیا کو از سر نو تعمیر کیا جائے۔ دنیا کو امن ، تحفظ، ترقی اور باہمی احترام کا ماحول دیا جائے۔ اور قوموں کا ایک عالمی نظام (International order) قائم کیا جائے۔ مگر اقوام متحدہ پر چالیس سال گزر گیے اور اب تک وہ کچھ بھی نہ کر سکا۔ اس مدت میں قوموں کے درمیان پیدا ہونے والے سیکڑوں مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ کو بھی اس نے حل نہیں کیا۔ آج اقوام متحدہ قوموں کی امیدوں کا مزار ہے نہ کہ قوموں کی امیدوں کی تکمیل کا قلعہ۔ اقوام متحدہ کی رونق اب صرف ان لوگوں کے ذریعہ ہے جو اس کو دیکھنے کے لیے ہر روز بڑی تعداد میں آتے ہیں اور جن کی اکثریت اسکول کے بچوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگر یہ دیکھنے والے لوگ نہ آئیں تو شاید اقوام متحدہ کے ادارہ میں قبرستان کا سناٹا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page